بلنکن شام کی صورتِ حال پر گفتگو کے لیے ترکی کا دورہ کریں گے: ذرائع

کرد افواج کی حمایت واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تصادم کا باعث ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ترکیہ کے ایک سرکاری ذریعے نے بدھ کو بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والی پیش رفت پر گفتگو کرنے کے لیے جمعہ کو ترکیہ کا دورہ کریں گے۔

الاسد کی غیر متوقع معزولی کے صرف پانچ دن بعد ہونے والے اس دورے کے بارے میں ذریعے نے کہا، "وہ جمعہ کو ترکیہ میں ہوں گے" اور تفصیلات کے "حتمی شکل اختیار کر لینے پر" مزید بتانے کا وعدہ کیاَ۔

اس معاملے میں کوئی قابلِ عمل ساتھی نہ ہونے کی بنا پر واشنگٹن نے ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے شام کی سیاسی شکست سے دور رہنے کی کوشش کی ہے لیکن حزبِ اختلاف کی طرف سے سامنے آنے والی غیر متوقع کارروائی اسے نظرِ ثانی پر مجبور کر رہی ہے۔

شام میں 2014 سے تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں جو کردوں کے زیرِ قیادت شمال مشرقی شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے باغیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

لیکن کرد افواج کی حمایت نے واشنگٹن کو انقرہ سے متصادم کر دیا ہے جس کے نزدیک یہ کالعدم پی کے کے کی توسیع ہیں جنہوں نے ترک ریاست کے خلاف عشروں سے جاری خونریز بغاوت کی قیادت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں