ترکیہ کے ایک سرکاری ذریعے نے بدھ کو بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والی پیش رفت پر گفتگو کرنے کے لیے جمعہ کو ترکیہ کا دورہ کریں گے۔
الاسد کی غیر متوقع معزولی کے صرف پانچ دن بعد ہونے والے اس دورے کے بارے میں ذریعے نے کہا، "وہ جمعہ کو ترکیہ میں ہوں گے" اور تفصیلات کے "حتمی شکل اختیار کر لینے پر" مزید بتانے کا وعدہ کیاَ۔
اس معاملے میں کوئی قابلِ عمل ساتھی نہ ہونے کی بنا پر واشنگٹن نے ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے شام کی سیاسی شکست سے دور رہنے کی کوشش کی ہے لیکن حزبِ اختلاف کی طرف سے سامنے آنے والی غیر متوقع کارروائی اسے نظرِ ثانی پر مجبور کر رہی ہے۔
شام میں 2014 سے تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں جو کردوں کے زیرِ قیادت شمال مشرقی شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے باغیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
لیکن کرد افواج کی حمایت نے واشنگٹن کو انقرہ سے متصادم کر دیا ہے جس کے نزدیک یہ کالعدم پی کے کے کی توسیع ہیں جنہوں نے ترک ریاست کے خلاف عشروں سے جاری خونریز بغاوت کی قیادت کی ہے۔
-
شام: 70 فی صد اراضی پر مسلح دھڑوں اور 20 فی صد پر ایس ڈی ایف کا قبضہ
شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ "المرصد" کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے آج بدھ کے ...
مشرق وسطی -
شام سے روس کے انخلا کی کوئی علامات نہیں، وڈیو اور تصاویر کے شواہد
اگرچہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط اور سرکاری فوج کے اپنے ٹھکانوں ...
مشرق وسطی -
شامی حکومت کا کوئی سکیورٹی اہلکار ہماری سرزمین میں داخل نہیں ہوا:لبنان
لبنان کے وزیر داخلہ بسام مولوی نے زوردے کر کہا ہے کہ سابق شامی حکومت کا کوئی ...
مشرق وسطی