شام: تمام مسلح گروپوں کو وزارت دفاع کی کمان میں دینے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے دارالحکومت دمشق میں سابق صدر بشار الاسد کے زوال کے بعد چوتھے روز تقریباً معمول کی نقل و حرکت بحال ہوگئی۔ العربیہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شامی کراسنگ اور ہوائی اڈوں پر کام کی واپسی کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ سرحدی گزرگاہوں اور ہوائی اڈوں کا انتظام اب عبوری حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

وزارت دفاع کی تشکیل

ذرائع نے بدھ کو انکشاف کیا کہ وزارت دفاع کی تنظیم نو پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ العربیہ ذرائع نے وضاحت کی کہ ایک اعلیٰ سطح کے سیکورٹی اور فوجی اجلاس میں وزارت دفاع کی کمان میں تمام دھڑوں کو شامل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ باخبر ذرائع نے پہلے اطلاع دی تھی کہ ھیئہ تحریر الشام اور اس کے اتحادی گروپوں پر مشتمل ’’ ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ‘‘ ملک میں شامی فوج اور سکیورٹی سروسز کی تشکیل پر نظر ثانی کرے گا۔

دریں اثنا ’’ ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ‘‘ جلد ہی اپنے عسکریت پسندوں اور جنگجوؤں کو تمام گلیوں سے نکالنا شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ان کی جگہ اس گروپ سے وابستہ پولیس اور داخلی سلامتی کے اہلکاروں کو تعینات کرنا چاہتا ہے۔ یہ معلومات اس وقت سامنے آئی ہیں جب ملک اور عوامی اداروں کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے محمد البشیر کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت قائم ہوجانے کے باوجود بہت سے مغربی اور مقامی مبصرین کے مطابق شام میں منظر نامہ ابھی واضح نہیں ہوا ہے۔

بہت سے گروپوں خاص طور پر وہ گروپ جن کو اقوام متحدہ اور امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہے کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم ان تنظیموں کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالے جانے کے بارے میں خبریں بھی موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں