اردن میں ایک واقعے سے متعلق تصاویر اور وڈیو کلپ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تصاویر اور وڈیو میں تین طالبات کو دیکھا جا سکتا ہے جنھوں نے ایک بلی کا گلا کاٹ کر اس کی کھال اتاری اور پھر اس کے ٹکڑے کرنے کے بعد انھیں ایک تھیلی میں بھر دیا۔ وڈیو میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بلی کے ٹکروں کو کہاں منتقل کیا گیا۔
مذکورہ طالبات نے وڈیو کلپوں کے ذریعے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا اور اسے دیگر طلبہ کے ساتھ شیئر بھی کیا۔ اس اقدام کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اردن میں German Jordanian University نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ جامعہ کی حدود سے باہر پیش آیا۔ مزید یہ کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ذمے دار طالبات کی شناخت کے بعد انھیں مستقل طور پر جامعہ سے نکال دیا جائے گا۔
جامعہ کی انتظامیہ نے ہر طرح کے بلا جواز تشدد کی بھرپور مذمت کی ہے جس میں جانوروں کے خلاف تشدد بھی شامل ہے۔
جامعہ کے مطابق بعض جانبوں سے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں اور اس واقعے کو جامعہ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔