ایک نیا موقع، شام کی حکومت میں تمام گروپوں کو شامل کرلیا جائے: نمائندہ اقوام متحدہ

اس بات کو یقینی بنانا چاہیے ریاستی ادارے تباہ نہ ہوں، اور انسانی امداد جلد از جلد حاصل کی جائے: پیڈرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی گیئر پیڈرسن نے ہفتے کے روز بیرونی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کے اہم اداروں کے خاتمے سے بچنے کے لیے کوششیں کریں۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران جنوبی اردن کے شہر عقبہ میں شام کے بارے میں ہونے والی ملاقاتوں کے موقع پر پیڈرسن نے ایک "قابل اعتماد اور جامع" حکومت بنانے کے لیے سیاسی عمل کی حمایت کا اظہار کیا۔ ان ملاقاتوں میں عرب وزراء، یورپی یونین اور ترکیہ کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ریاستی ادارے تباہ نہ ہوں اور انسانی امداد جلد از جلد حاصل کی جائے۔ اگر ہم یہ حاصل کر سکتے ہیں تو شاید شامی عوام کے لیے ایک نیا موقع ہو گا۔ ساحلی شہر عقبہ میں اردن شام کے بارے میں امریکہ، یورپی یونین، ترکی، سعودی عرب، عراق، لبنان، مصر، امارات، بحرین اور قطر کے وزرائے خارجہ کی شرکت کے ساتھ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔

خطے میں اپنے دورے کے دوران شام کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی گیئر پیڈرسن نے بلنکن ، اردن، ترکی اور عراق کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ایک "جامع" سیاسی عمل پر زور دیا جو شام کے تمام اجزاء کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے۔ پیڈرسن کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران بلنکن نے کہا کہ اقوام متحدہ شام میں انسانی امداد اور اقلیتوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پیڈرسن نے منگل کے روز کہا کہ ھیئہ تحریر الشام نے شامی عوام کو اب تک مثبت پیغامات بھیجیں ہیں۔

پیڈرسن، جنہیں 2018 میں شام کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا تھا، نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے اہم امتحان دمشق میں عبوری انتظامات کو منظم کرنے اور نافذ کرنے کا طریقہ رہے گا۔ انہوں نے کہا اگر تمام گروپوں اور زمرووں کو شامل کر لیا جائے تو شام میں ایک نئی شروعات کے امکان ہے۔ شام میں تنازعہ کے نتیجے میں لگ بھگ 5 لاکھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ شام کی تقریبا نصف آبادی بے گھر ہوگئی یا بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں