شام میں بدنام زمانہ "صیدنایا" جیل کھولے جانے کے بعد قتل عام اور تشدد کے ان طریقوں کا انکشاف ہوا ہے جو سابق صدر حافظ الاسد سے لے کر اس کے بیٹے بشار الاسد تک شامی حکومت نے اختیار کیے۔
دنیا کے سامنے صرف کہنے کی حد تک نہیں بلکہ واقعتا یہ بات آئی کہ انسانی کھال اتارنا کسے کہتے ہیں۔
اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق تشدد اور عقوبت کے طریقوں کے اختیار کے لیے الاسد حکومت نے ہولوکوسٹ میں شرکت کرنے والے نازی افسران پر اعتماد کیا۔ انھوں نے گذشتہ صدی میں 1960ء کی دہائی سے "انسانی کھال اتارنے" کا نظام اور تشدد کے لیے عقوبت خانے بنانے میں الاسد حکومت کو مدد پیش کی۔ ان میں صیدنايا ملٹری جیل شامل ہے۔
برطانوی اخبار "گارڈین" کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد شام کا نازیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں بدل جانا مقصد سے خالی نہ تھا۔ مشہور نازی شخصیات صرف سیاسی پناہ گزین کی حیثیت سے شام منقتل نہیں ہوئیں بلکہ وہ "البعث" پارٹی کی حکومت کی مشیر بن گئیں۔
اس بات کی تصدیق اسرائیلی مؤرخ ڈینی اورباخ نے مفرور نازیوں سے متعلق اپنی کتاب The Fugitives میں بھی کی ہے۔
بہت سے ایجنٹوں اور بین الاقوامی پولیس کے اداروں نے کئی برس تک دمشق میں روپوش مشہور نازی ایلوئس برونر تک پہنچنے کی کوشش کی۔ نازیوں کے ساتھ حافظ الاسد کے تعلق کی بات گذشتہ برسوں کے دوران میں عالمی اور عرب میڈیا میں سامنے آ چکی ہے۔
نازی افسر برونر نے الاسد حکومت کے سائے میں چالیس برس شام میں گزارے۔ البعث پارٹی نے 1963 میں شام کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔
برونر 1912 میں پیدا ہوا تھا۔ وہ یورپ میں بڑی نسل کشی کے کیمپوں کے ذمے داران افسران میں سے تھا۔ جرمنی میں نازی سربراہ ایڈولف ہٹلر کی حکومت کے سقوط کے بعد وہ 1953 میں 'جارج فشر' کے فرضی نام کے پاسپورٹ کے ساتھ مصر فرار ہو گیا۔ پھر وہاں سے پناہ گزین بن کر شام منتقل ہو گیا۔
سال 1961 میں امریکیوں کو کئی تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ دمشق میں مقیم جارج فشر ہی جرمن نازی افسر برونر ہے۔ اسی سال برونر کو دمشق میں ایک دھماکا خیز ڈاک پارسل ملا جس کے سبب وہ ایک آنکھ سے محروم ہو گیا۔ اس پر برونر جان گیا کہ اس کا پول کھل چکا ہے۔ سال 1966 میں اس کی ملاقات حقیقتا شامی حکومت سے ہوئی جب حافظ الاسد وزیر دفاع تھا۔ حافظ الاسد نے نازی ماہر کی خدمات سے استفادہ کیا۔ برونر نے حافظ الاسد کے غیر سرکاری سیکورٹی مشیر کے طور پر کام کیا۔ اس کے پانچ برس بعد الاسد نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
برونر کی مشاورت سے بنائے گئے تشدد اور عقوبت کے نظام میں کئی آلات استعمال ہوتے تھے۔ ان میں "جرمن کرسی" شامل ہے جس کے ذریعے کمر کو کھینچ کر ریڑھ کی ہڈی کے مہرے توڑ دیے جاتے تھے۔
برونر کی موت کے حوالے سے کوئی متعین معلومات نہیں ہیں البتہ متضاد معلومات ہیں کہ وہ 1992 میں فوت ہوا جب کہ دیگر ذرائع کے مطابق اس کی موت کا سال 2010 ہے۔
شام کے شہر تدمر کی جیل کے حوالے سے اس بات کی شہادتیں موجود ہیں کہ وہاں اجتماعی عقوبت اور منظم جسمانی تشدد کا طریقہ استعمال کیا گیا۔ ان طریقوں نے ذہنوں میں نازیوں کے قید خانوں کی یاد دلا دی۔ جہاں تک صيدنايا جیل کا تعلق ہے تو رپورٹوں میں انکشاف ہوا ہے کہ وہاں "دباؤ کمرہ" بنایا گیا تھا۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جو اجتماعی دباؤ کے ذریعے ایک ساتھ درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے ڈیزائن کی گئی۔ اس کے علاوہ اجتماعی قبروں کی بھی تصدیق ہوئی جن کو لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ محفوظ رہنے والے قیدیوں نے بتایا کہ لاشوں کو گلانے اور ثبوت مٹانے کے لیے کیمیائی محلول استعمال کیے جاتے تھے۔
اندازوں کے مطابق صرف صيدنايا جیل میں 2011 سے 2015 تک موت کے گھاٹ اتارے جانے والوں کی تعداد 13 ہزار سے 20 ہزار گرفتار شدگان تک ہے۔ اس سے سابق نظام حکومت کی وحشیانہ بربریت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو 54 برس تک جاری رہی۔
جسمانی تشدد کے ساتھ نفسیاتی تشدد کے طریقوں کا بھی استعمال کیا گیا تا کہ گرفتار شدگان کی قوت ارادہ توڑی جا سکے۔ ان طریقوں میں نیند سے محروم رکھنا، دوسروں پر تشدد کی آوازیں سنانا اور مایوسی اور افراتفری کا مستقل ماحول فراہم کرنا شامل ہے۔ مزید یہ کہ گرفتار شدگان کو تھوڑی مقدار میں ملنے والے کھانے میں نمک بالکل شامل نہیں کیا جاتا تھا تا کہ ان کے جسم کمزور پڑ جائیں۔ اس کے بعد ان لوگوں کو ان کمروں سے گزارا جاتا تھا جہاں نمک کی بڑی مقدار کے بیچ لاشوں کو رکھا جاتا تھا۔
-
امریکی ڈالر کے مقابلے شامی کرنسی مضبوط ہو گئی: مقامی کرنسی ایکسچینجرز
دمشق کے کرنسی ایکسچینجرز نے ہفتے کے روز بتایا کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں شام کی ...
مشرق وسطی -
ایک نیا موقع، شام کی حکومت میں تمام گروپوں کو شامل کرلیا جائے: نمائندہ اقوام متحدہ
اس بات کو یقینی بنانا چاہیے ریاستی ادارے تباہ نہ ہوں، اور انسانی امداد جلد از جلد ...
مشرق وسطی -
شام میں ریاست کی تعمیر کی حمایت کرتے ہیں، دہشت گردی کی نہیں : عرب رابطہ کمیٹی
شام کے حوالے سے عرب وزارتی کمیٹی کا خصوص اجلاس آج ہفتے کے روز اردن کے شہر العقبہ ...
مشرق وسطی