برطانیہ میں قائم شام میں جنگی صورت حال اور انسانی حقوق کو مانیٹر کرنے والے ادارے کے مطابق داعش نے چھ چرواہوں کو ہلاک کر کے ان کی بھیڑ بکریاں چرا لی ہیں۔ وار مانیٹرنگ والے ادارے کے مطابق یہ داعش کی کارروائی ایک دور افتادہ شامی صحرا میں ہوئی ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی ' آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق چرواہوں کو ہلاک کرنے کا یہ واقعہ ہفتے کی صبح جنوبی شام کے علاقے پامیرا میں پیش آیا ہے۔ شام میں گذشتہ کئی سال سے امریکہ اور اتحادیوں کی فوج کو سینکڑوں کی تعداد میں باقی رکھا گیا ہے تاکہ داعش کی سرکوبی کرتے رہیں اور اسے ابھرنے نہ دیں۔
داعش کا خاتمہ ایک بار 2015 تک کر دیا گیا تھا، تاہم امریکہ کویقین تھا کہ یہ دوبارہ خطرہ بن سکتی ہے۔اس لیے اس نے اپنے900 فوجیوں کو اسی غرض سے شام میں باقی رکھنے کا فیصلہ کیا۔غیر ملکی ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ داعش اب بھی عراق کے ساتھ جڑے سرحدی علاقوں کے نزدیک موجود ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق شامی خانہ جنگی کے دوران 2011 سے لے کر پانچ لاکھ شامی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق آخری بمباری اسرائیلی جنگی بمبار طیاروں نے آٹھ دسمبر کو بشارالاسد کا تختہ الٹے جانے کے بعد شام میں کی ہے۔ تاہم سینکڑوں بار کی گئی اسرائیلی بمباری کے بعد کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں کی گئی ہے۔
علاقے کے دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے دورے کا ایک مقصد بھی یہی ہے کہ بشارالاسد کے بعد داعش کے دوبارہ ابھرنے کی امکانات اور حالات پر نظر رکھی جائے اور شام میں حکومت سازی کے عمل کو راستے پر رکھا جا سکے۔
جمعرات کے روز ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے امریکی وزیر خارجہ بلنکن کو یقین دلایا ہے کہ داعش کو رعایت نہیں دی جائے گی کہ وہ دوبارہ سے متحرک ہو سکے۔ شام میں تبدیلی کے بعد بر سراقتدار آنے والے گروپ کے بھی ماضی میں داعش اور القاعدہ وغیرہ سے روابط رہے ہیں۔