تحریر الشام پر سے پابندیاں اٹھانا قبل از وقت ہے: نیدر لینڈز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اور "تحریر الشام" اور اس کے اتحادی گروپوں کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد نیدر لینڈز کے وزیر خارجہ کاسپر ویلڈکیمپ نے کہا ہے کہ "تحریر الشام" کو یورپی پابندیوں کی فہرست لے نکالنا قبل از وقت ہے۔

انہوں نے پیر کے روز کہا کہ "تحریر الشام" پر سے پابندیاں ہٹانے کا تعلق ایک سیاسی راستہ شروع کرنے اور اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے سے ہو گا۔ شام میں روس کے اڈوں کو بند کرنا دمشق کی حمایت کے لیے یورپی شرائط کا حصہ ہو گا۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی خارجہ اور سلامتی پالیسی کے افسر کایا کالس نے اعلان کیا ہے کہ یورپی کونسل شام کی صورت حال اور اس ملک میں تیزی سے رونما ہونے والی پیش رفت پر بات کرنے کے لیے آئندہ یورپی اجلاس سے قبل بات چیت کے لیے ایک سینئر سفارت کار کو دمشق بھیجے گی۔

’’العربیہ‘‘ کی معلومات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مطلوب سفارت کار یورپی ناظم الامور مائیکل اوہنیماچٹ ہیں۔ یورپی خارجہ اور سلامتی پالیسی کے افسر کایا کالس نے یہ بھی وضاحت کی کہ یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شام کی نئی قیادت سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دہشت گردی کی فہرست

یورپی یونین کی دہشت گردی کی فہرست سے حزب اختلاف کے کچھ گروپوں کو نکالنے کے حوالے سے کایا کالس نے کہا کہ یورپی یونین شام کے اگلے رہنما کے اقدامات کا جائزہ لیے رہی اور ان کا قریب سے جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کے اتحادی روس اور ایران کے بارے میں یونین سمجھتی تھیں کہ وہ کمزور ہو چکے ہیں اور یہ دنیا کے لیے ایک مثبت بات ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں