اسرائیلی فوج شام اور اردن کی سرحد کے قریب درعا میں نو کلو میٹر اندر گھس گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بدھ کے روز سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی شام میں درعا کے دیہی علاقوں میں نو کلومیٹر گہرائی میں داخل ہو گئی ہے۔

شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والی ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے کہا کہ "اسرائیلی فوج شام اور اردن کی سرحد کے قریب واقع گاؤں کویا اور تاریخی الوحدہ ڈیم میں داخل ہوگئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے علاقے کے رہائشیوں کو ہتھیار ڈالنے کی وارننگ دی گئی ہے۔

لندن میں قائم آبزرویٹری نے آج ایک پریس بیان میں کہا کہ "اسرائیلی فوج قنیطرہ اور درعا گورنریوں کے درمیان انتظامی سرحد پر واقع گاؤں صیدا کے آس پاس کی 74ویں بٹالین میں داخل ہوئیں، جو کہ جنوبی علاقے میں ایک نئی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق "یہ فوجی اقدام مقبوضہ گولان کے ساتھ شامی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے"۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج شام کی سرحد پر بفر زون میں رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج جبل الشیخ چوٹی پر موجود رہے گی۔

نیتن یاہو نے یہ بیانات کل منگل کو پہاڑ کی چوٹی سے دیے جو خطے کی سب سے اونچی چوٹی اور شام کی سرحد پر واقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ 53 سال قبل ایک سپاہی کے طور پر ماؤنٹ ہرمون کی چوٹی پر گیا تھا لیکن اسرائیل کی سلامتی کے لیے انہیں ایک بار پھر اپنی فوج کو یہاں منتقل کرنا پڑا ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے انکشاف کیا کہ اس نے شامی گولان میں ماؤنٹ ہرمون پر ایک سکیورٹی میٹنگ کی۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک بفر زون کا کنٹرول سنبھال لیا جو اسرائیلی اور شامی فوج کے درمیان ایک خالی علاقہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں