کوسوو کی طرح شام میں خصوصی عدالتوں کے لیے شواہد اکٹھا کرنا اہم ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام کے معزول صدر بشار الاسد نے رواں ہفتے ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملک سے فرار ہونا کوئی پیشگی منصوبہ نہیں تھا بلکہ یہ ہنگامی طور پر عمل میں آیا۔ اس کا انتظام ماسکو نے کیا تھا۔

برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" کی رپورٹ کے مطابق شامی صدر کے ملک سے کوچ کرنے کا طریقہ کار ان کی حکمرانی کے وحشیانہ پن کے مقابل زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ہے۔

بشار حکومت کے ہاتھوں موت، اغوا، قید، آبرو ریزی اور تشدد کا شکار ہونے والے افراد کے لاکھوں اہل خانہ اب یہ چاہتے ہیں کہ بشار الاسد اور اس کے معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں پیش کیا جائے تاکہ کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے شرم ناک افعال پر ان کا احتساب ہو سکے۔

اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شامی عوام انصاف کے حصول کے مستحق ہیں تاہم بشار، اس کے خاندان اور معاونین کے احتساب کے لیے حالیہ کوششوں کی راہ میں مرکزی رکاوٹ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر پہلے ہی فرار ہو چکے ہیں۔

کچھ رپورٹوں کے مطابق بعض سینئر جنرل اور ذمے داران فرار ہو گئے یا اپنے آبائی شہروں میں روپوش ہو گئے ہیں۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پہلی ترجیح ان شواہد کو محفوظ بنانے کی ہونی چاہیے جن کو ان افراد کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ "دی کمیشن فار انٹرنیشنل جسٹس اینڈ اکاؤنٹیبلٹی" (CIJA) جو ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، پہلے ہی 11 لاکھ داخلہ دستاویزات اور ہزاروں متاثرین کی شہادتیں اکٹھا کر چکی ہے تا کہ انھیں مستقبل میں عدالتی کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکے۔

اسی طرح "انٹرنیشنل ، امپارشل انیڈ انڈیپینڈنٹ میکنزم" (IIIM) نے بھی سابق شامی حکومتی نظام کے خلاف شواہد جمع کیے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ 2016 میں اقوام متحدہ کی جانب سے قائم کیا جانے والا ایک نیم عدالتی ادارہ ہے۔ گئی نیم عدالتی باڈی ہے۔

تاہم شام میں عبوری قیادت کو فوری طور پر ایک خود مختار باڈی تشکیل دینے کی ضرورت ہے تا کہ بشار الاسد کی قاتل بیوروکریسی کے چھوڑے گئے دستاویزات کی حفاظت کی جا سکے۔

یاد رہے کہ شام بین الاقوامی فوج داری عدالت کا رکن نہیں ہے۔ غالب گمان ہے کہ اگر سلامتی کونسل کی جانب سے اس عدالت کو اختیار دینے کے کوئی بھی قرار داد پیش کی گئی تو روس اور چین اس کو ویٹو کر دیں گے۔ اس کا متبادل یہ ہے کہ ایک خصوصی عدالت کے قیام پر اقوام متحدہ کے ساتھ اتفاق عمل میں آئے۔ یہ عدالت اسی طرز کی ہو جس طرح سیرالیون یا کوسوو میں قائم کی گئی تھی اور اسے بین الاقوامی قانون کے تحت کام کرنا چاہیے۔

شام کے حوالے سے ایک منظر نامہ بین الاقوامی ٹریبونل کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جس کی مثال ہمیں جنوبی افریقا، چلی اور روانڈا میں ملتی ہے۔ یہ ٹریبونل عدالتی مقدمات اور غیر عدالتی اقدامات کے ساتھ کام کرتا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ بات غیر متوقع نظر آتی ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین کسی دوسرے سربراہ کو بین الاقوامی فوجداری عدالت میں پیش کرنے کے سلسلے میں تعاون کریں۔ یاد رہے کہ مذکورہ عدالت خود پوتین کے خلاف یوکرین میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔

آخر کار شامیوں کو چاہیے کہ وہ اس نمونے کا انتخاب کریں جو قانونی انصاف کے حصول کی کوشش میں موزوں ترین ہو۔

اخبار کی رپورٹ میں زیادہ اہم امور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں غریب عوام کو کھانے کی فراہمی اور حکومت کا استحکام شامل ہے۔ اس کے ساتھ بشار دور کے جرائم کے خلاف انصاف کے بعض حقیقی وعدے قانون کی بالا دستی کے قیام کے آغاز کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں