جوہری ایران

امریکہ کی ایران کے میزائل اور ڈرونز پروگرام پر نئی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول OFAC) ) نےایران کے دو اداروں اور دو افراد پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔ ان افراد اور اداروں کا تعلق ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے حساس نیویگیشن اجزاء کی تیاری اور فراہمی سے بتایا جاتا ہے۔

فارسی زبان کی وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ کے ذریعہ رپورٹ کردہ محکمہ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق’آئی آر جی سی‘ ایرو اسپیس فورس سے وابستہ "خود کفالت جہاد آرگنائزیشن" ایرانی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ان بنیادی اجزاء کو ڈرونز اور میزائل کی پیداوار اور ترقی میں استعمال کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے ڈرون اور میزائل پروگرام میں ملوث ایک شخص اور دو دیگر اداروں پر پابندیاں بھی عائد کر دیں۔

محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بدھ کو لگائی گئی پابندیاں امریکی محکموں کے کامرس اور انصاف کے ساتھ مربوط تھیں۔ محکمہ انصاف نے ان کوششوں میں تعاون کیا جس کی وجہ سے پابندیوں کی فہرست میں شامل ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

دوسری طرف انسداد دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے امریکی وزیر خزانہ کے عبوری معاون بریڈلی اسمتھ نے کہا کہ ایرانی حکومت بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری میں استعمال ہونے والے بنیادی اجزاء کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے روس، اس سے منسلک ملیشیا اور دنیا بھر میں عدم استحکام پیدا کرنے والے دیگر عناصر کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی میں خلل ڈالنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

پابندیوں کی فہرست میں شامل کمپنیاں اور افراد

دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول OFAC) ) کے بیان کے مطابق پابندیوں کی فہرست میں ایران کی ’رہبویان افلاک سائنسی صنعتی کمپنی شامل ہے۔ یہ کمپنی نیویگیشن اور آٹومیشن سسٹم کی مشاورت، ڈیزائن، پیداوار اور فراہمی میں مصروف ہے۔ یہ کروز میزائلوں، بیلسٹک میزائلوں، ڈرونزکے اجزاء، ڈرون آبدوزوں اور دیگر آلات کے لیے پرزے فراہم کرنے میں پیش پیش ہے۔

پابندیوں میں محمد عابدینی نجف آبادی شامل ہیں۔ وہ راہبویان افلاک سائنٹیفک انڈسٹریل کمپنی میں جنرل منیجر، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر اور شیئر ہولڈرز میں سے ایک کے عہدے پر فائز ہیں۔

کاوہ مرات: پابندیوں کا ہدف بننے والا اہم ایرانی عہدیدار ہے۔ وہ چیف ٹیکنالوجی آفیسر، بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین اور راہبویان افلاک سائنٹیفک انڈسٹریل کمپنی میں شیئر ہولڈر ہے۔

ایلموساکمپنی سوئٹزرلینڈ میں ہیڈ کوارٹر رکھتی ہے جس کی نگرانی محمد عابدینی نجف آبادی کررہا ہے۔ وہ اس فرم کا جنرل مینیجر اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا رکن ہے۔

امریکی محکمہ OFAC کے بیان کے مطابق اس کمپنی کا بنیادی مقصد ایران سے باہر رہبویان افلاک سائنسی صنعتی کمپنی کے مفادات کی نمائندگی کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں