شامی کرد فورسز کے کمانڈر نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ شامی کرد فورسز کی مدد کے لیے آنے والے کرد جنگجو اس صورت میں شام سے چلے جائیں گے اگر شمالی شام میں ترکیہ کے ساتھ معاہدہ ہوجاتا ہے۔
ترکیہ کے بڑے مطالبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کرد جنگجوؤں کا شام سے انخلاء یقینی بنایا جائے۔
شامی مسلح گروپوں اور ترکیہ نے بشار الاسد کے اقتدار کا تختہ الٹنے کے ایک دن بعد کردوں کے زیر قیادت 'سیرین ڈیموکریٹک فورسز' کے منبج شہر پر قبضہ کی حمایت کی ہے۔
ایس ڈی ایف کے کمانڈر عبدی کی گفتگو اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ غیر شامی کرد جنگجو بشمول کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ارکان شام کے تنازعے کے دوران افواج کی حمایت و مدد کے لیے شام آئے ہیں۔
خیال رہے ترکیہ و امریکہ سمیت کئی ممالک 'پی کے کے' کو دہشت گرد گروپ سمجھتے ہیں۔
عبدی نے کہا 'شام میں ایک مختلف صورتحال ہے۔ ہم ایک نیا سیاسی مرحلہ شروع کر رہے ہیں۔ شامیوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہییں اور نئی انتظامیہ قائم کرنی چاہیے۔'
انہوں نے مزید کہا 'اب وقت آگیا ہے کہ وہ جنگجو جنہوں نے جنگ میں ہماری مدد کی تھی، اپنے علاقوں میں واپس چلے جائیں۔
امریکی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ منبج میں جنگ بندی معاہدے کو ہفتے کے آخر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ تاہم ترکیہ کی وزارت دفاع کے اہلکار نے جمعرات کو کہا ہے کہ 'ایس ڈی ایف' کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔'
عبدی نے کہا 'ایران، عراق اور ترکیہ سے جنگجو پہلے شام آئے تھے۔ تاکہ عسکریت پسندوں کو کوبانی سے نکالنے میں شام کو تعاون دیں۔ کوبانی جنگ کے بعد ورکرز پارٹی کے جنگجو داعش کے مکمل خاتمے تک تعاون دینا چاہتے ہیں۔