اونٹ، کبسۃ اور محبت: سعودی عرب میں ایک برطانوی انفلوئنسر کی غیر متوقع مہم جوئی

فیوری-یوسیک کے ری میچ کے لیے ریاض آنے والے مہم جو کو مملکت میں روابط مضبوط کرنے کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک برطانوی انفلوئنسر ہنری مورز نے اولیکسینڈر یوسیک اور ٹائسن فیوری کے درمیان باکسنگ کے نہایت اعلیٰ سطحی اور پرجوش میچ کے لیے ریاض کا ایک غیر معمولی سفر کیا ہے۔ وہ پیدل سفر کر کے متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

مورز نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس سفر کو ایک ایسا موقع قرار دیا جسے وہ "ضائع کر دینے کے متحمل نہیں تھے"۔ انہوں نے بتایا: "ریاض کئی سالوں سے میری نگاہوں میں ہے اور جب فیوری فائٹ کی صورت میں ایک موقع ملا تو سب کچھ بالکل ٹھیک ہو گیا۔"

ہفتہ کی شام دو ہیوی ویٹ باکسرز کے درمیان ڈبلیو بی اے، ڈبلیو بی سی اور ڈبلیو بی او ٹائٹلز کے لیے ری میچ ہوا جس کا گذشتہ مئی میں ان کے مقابلے کے بعد بہت زیادہ انتظار تھا۔ یہ ایک تاریخی اہمیت کی لڑائی ہے۔

مورز نے کہا کہ ان کے پیروکاروں کی طرف سے ان کی سعودی مہم پر ردِعمل "بہت زیادہ مثبت" رہا ہے۔ ابتداً مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ کیسا ردِعمل ظاہر کریں گے بالخصوص جب کہ میں ایک ایسی جگہ پر جا رہا تھا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ البتہ سب نے اس سفر کو قبول کیا اور واقعی اس تجربے کو پسند کیا۔"

ابتدائی خدشات کے باوجود مورز کو وزٹ سعودی اقدام کے ذریعے اطمینان اور یقین دہانی ملی جس نے انہیں ملک کے طول و عرض میں وسائل اور روابط فراہم کیے۔ "میں نے اپنی حفاظت کے بارے میں مکمل طور پر مطمئن محسوس کیا۔"

سعودی مہمان نوازی کے ساتھ ان کے تجربات خاصے یادگار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "جیسے ہی ہم سعودی عرب پہنچے تو مقامی لوگوں نے تحائف، پانی، مدد اور معاونت کی پیشکش کے ساتھ ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔ میرے تمام اعصاب فوراً پرسکون ہو گئے۔"

انہوں نے مزید کہا، "جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا، وہ لوگوں کی ناقابلِ یقین مہمان نوازی اور سخاوت تھی۔ مجھے درحقیقت تحفے میں پانی کی اس سے زیادہ بوتلیں ملیں جتنی میں نے خریدیں اور کئی مواقع پر مجھے اپنے کھانے کی ادائیگی کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔"

مورز کے لیے ایک خاص بات ہرض کے میئر کے گھر میں ان کا خیرمقدم تھا۔ انہوں نے کہا، "ہم نے مل کر چائے پی، دلفریب گفتگو کی اور کبسۃ کے مزیدار کھانے کا لطف اٹھایا۔"

ان کی مہم جوئی میں اونٹوں کے فارم کا دورہ بھی شامل تھا۔ اس تجربے کو انہوں نے شوق سے یاد کیا۔ "ہم ملفی نامی ایک شخص سے ملے جو میرا ہی ہم عمر تھا اور اس نے ہمیں اپنے اونٹوں کے فارم میں مدعو کیا۔ وہاں ہم نے اونٹوں کا دودھ دوہا اور موقع پر ہی دودھ پینے کا خوشگوار تجربہ کیا۔"

مورز نے اپنے سفر کے بارے میں بعض پیروکاروں کے ابتدائی شکوک و شبہات کو بھی دور کیا۔ "انہی افراد نے بعد میں اپنی رائے کے لیے معذرت کی اور بتایا کہ وہ اب سعودی عرب جانا کتنا پسند کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے مواد سے واضح طور پر اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ سعودی عرب کتنا ناقابلِ یقین ہے۔

پیدل سفر اور کوہ پیمائی کے لیے جنون ان کے سفر کا ایک اہم حصہ تھا جو انہیں بچپن میں ان کی والدہ سے ورثے میں ملا۔ "مملکت کے قلب تک پہنچنا ایک خواب کے حقیقت بننے کی طرح محسوس ہوتا ہے جس کا تجربہ کرنے کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ ان کا پہلا تأثر ایک "خوبصورت اور جدید شہر" کے تھے جس نے انہیں اپنا گرویدہ کر لیا۔

آئندہ کے حوالے سے مورز نے سعودی عرب کو مزید دریافت کرنے کے لیے بے تابی کا اظہار کیا بالخصوص الدرعیہ، مقامی کھانے اور بلیوارڈ ورلڈ۔

انہوں نے لاجسٹکس اور ترجمے میں تعاون کے لیے وزٹ سعودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "وزٹ سعودی نے مجھے مربوط کرنے، ترجمے کی خدمات فراہم کرنے، اور اس سفر کو ممکن بنانے کے لیے ایک ٹیم، کیمرے اور ایک معاون گاڑی لانے کے لیے لاجسٹکس کی سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔"

مورز نے واپسی کی خواہش بھی ظاہر کی۔ "سعودی عرب حیرت انگیز ملک ہے۔ میں کئی ناقابلِ یقین لوگوں سے ملا ہوں اور میں نے کبھی کسی ملک میں خود کو اتنا محفوظ محسوس نہیں کیا۔ یہ یقیناً مملکت میں میرا آخری سفر نہیں ہو گا۔ میں چونکہ پہلے ہی واپسی کا منتظر ہوں تو مجھے اپنے سعودی احبات سے تعلقات کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں تعاون جاری رکھنے کی امید ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں