سابق شامی فوج کے اہلکاروں نے بشار الاسد سے فاصلوں کا اظہار کرنا شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بشارالاسد کی سرکاری فوج نے خود کو اسد رجیم کی وفاداری سے دور ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ سرکاری فوج کا یہ اہتمام ھیتہ التحریر الشام کی نئی رجیم سے عام معافی کے اعلان کے بدلے میں کیا جا رہا ہے۔

ہفتے کے روز یہ بات سامنے آئی ہے کہ سینکڑوں فوجیوں نے نئی رجیم کو رپورٹ کر دیا ہے اور اس کی ماتحتی میں آنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ ان فوجیوں کو عام معافی ملنے کے بعد عام شہریوں کی زندگی گذارنے کا موقع دیا جائے گا۔

ہفتے کے روز سابقہ باغیوں اور موجودہ نئی رجیم کی طرف سے ان بشاری فوجیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ ان کے فوج میں رجسٹریشن، رینکس اور رہائشی پتہ جات کے علاوہ کچھ سوالوں کے جواب لینے کے بعد انہیں گھروں کو جانے دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق غیر فعال فوج کے بعض ارکان باہر کھڑے انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی عام معافی حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بشار الاسد فوج میں جانا اس لیے قبول کیا تھا کہ اس سے ماہانہ آمدنی اور بعد از ریٹائرمنٹ پینشن مل سکے۔

بشار الاسد کی وفادار فوجیں اپوزیشن کے جنگجوؤں کی پیش قدمی روکنے میں ناکام رہیں جس کے نتیجے میں آٹھ دسمبر کو بشار حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور انہیں ملک سے بھاگنا پڑا۔

اب ملک کی ذمام کار ھیتہ التحریر الشام کے ہاتھوں میں ہے اور بشار الاسد ملک سے باہر ہیں۔ نئی شامی رجیم ان مظالم کا پتا چلا رہی ہے جو بشار الاسد کی زیر کمان فوج کرتی رہی ہے۔ جیلوں کا جال اور اجتماعی قبروں کا نظام بشار کی فوج، حساس اداروں اور مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔

نئی وزارت داخلہ کے ساتھ کام کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل ولید عبد الربو نے کہا کہ بشار دور کی فوج کو ختم کر دیا گیا ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کس کے ہاتھ شامیوں کے خون میں رنگے ہیں۔ اس کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ان تحقیقات کی روشنی میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ ان افراد کو اپنی نئی فوج میں شامل کرنا ہے یا نہیں۔

نئے رہنما نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ ان لوگوں کو ضرور سزا ملے گی جو بشار کی قیادت میں لوگوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔

43 سالہ فوجی عبدالرحمٰن علی نے حلب میں اپنی فوجی خدمات اس وقت تک انجام دیں جب تک کہ وہاں پر اپوزیشن کے جنگجوؤں نے قبضہ نہیں کر لیا۔ انہوں نے کہا ہم یہاں مفاہمت و مصالحت کے لیے آئے ہیں۔ لیکن نہیں معلوم کہ ہمارا مستقبل کیا ہے اور کیا ہوگا۔ ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ ساری چیزوں کو چھوڑ دیں اور پیچھے ہٹ جائیں۔ میں نے اسلحہ چھوڑا اور سادہ کپڑوں میں نکل آیا۔

وہ بتا رہا تھا کہ حلب سے نکلتے ہوئے 14 گھنٹے تک پیدل چلتا رہا اور پھر اسے سلامیہ نامی قصبے سے بس ملی جس سے وہ دمشق پہنچا۔

عبدالرحمٰن علی جو فوج میں رہتے ہوئے 45 ڈالر ماہانہ کی تنخواہ پا رہا تھا اس نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی خدمت کو ترجیح دے گا۔

دمشق میں ایک عمارت کے اندر چار قطاروں میں لوگ کھڑے ہیں۔ جہاں چار کمروں میں مختلف تشویش کار ان سے سوال و جواب کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ باہر کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایک تفتیش کار نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا میں ان کی آنکھوں میں تاسف دیکھ رہا ہوں۔ اس کو یہ احساس اس وقت ہوا جب ایک سابق فوجی سے سوال پوچھا۔ یہ سابق فوجی اب شوارما بیچنے کا کام کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں