ترکیہ کی حمایت یافتہ فورس کے حملے کے نتیجے میں امریکہ کے حمایت یافتہ کرد جنگجؤوں پر مشتمل ' سیئرین ڈیمو کریٹک فورس' کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس امر کا اعلان ' ایس ڈی ایف' کی طرف سے ہفتے کے روز کیا گیا ہے۔
منبیج میں یہ لڑائی دو ہفتے قبل بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پھوٹ پڑی ثھی۔ ترکیہ کے حمایت یافتہ عرب اور امریکی حمایت یافتہ کرد جنگجو دونوں منبیج کے شہر کے کنٹرول کی کوشش میں ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہیں۔
ترکیہ امریکی حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے ۔ کہ یہ گروپ ترکیہ کے اندر بھی کئی دہشت گردی کے واقعات کر چکے ہیں۔
چالیس سال سے ان کردوں نے یہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
تاہم خطے میں یہ امریکی اثاثے کے طور پر موجود ہیں۔ امریکہ یہ باور کراتا ہے کہ وہ اپنے حمایت ہافتہ کردوں اور نیٹو کے رکن اتحادی ترکیہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔
امریکی دفتر خارجہ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ منبیج میں جنگ ہفتے کے اختتام تک رک گئی ہے ۔ جبکہ ترکیہ نے بعد ازاں کہا کہ ' ایس ڈی ایف' کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔اب ہفتے کے روز پانچ کرد جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔