ایرانی وزارت خارجہ کے پہلے اعلان کردہ موقف سے مختلف پوزیشن میں تہران حکومت نے کہا ہے دمشق اور تہران میں سفارتخانے دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی بات چیت ہو رہی ہے۔
حکومتی ترجمان نے منگل کو کہا کہ "ہم دونوں ممالک میں سفارتخانے دوبارہ کھولنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ دونوں فریق اس کے لیے تیار ہیں"۔
شام کا اتحاد
جہاں تک شامی حکومت کا تعلق ہے تو انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں تہران کے لیے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ ایک ایسی حکومت کی تشکیل ہے جسے عوام نے منتخب کیا ہے اور ساتھ ہی شام کی سرزمین کی وحدت کا تحفظ کرنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے سربراہ حسین پورفرزانہ نے اعلان کیا ہے کہ شامی حکام نے 22 جنوری تک ایرانی پروازیں معطل کر دی ہیں لیکن ان میں سے کچھ خصوصی اجازت نامے کے ذریعے جاری رہیں۔
’ایلنا‘ یہ بات ایران کی جانب سے کل پیر کو اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہےکہ سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں نئی قیادت کے ساتھ اس کا "براہ راست کوئی رابطہ نہیں" ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ ’’ہمارا دمشق میں حکمراں اتھارٹی سے براہ راست رابطہ نہیں ہے‘‘۔
بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ایران نے ایک اہم اتحادی کھو دیا۔ شام کئی سال تک حزب اللہ کے لیے ایک اہم راہ داری اور ہتھیاروں کی سپلائی کا روٹ رہا ہے۔