خودکش دھماکے میں اہلکار کی ہلاکت کے بعد ایک شخص گرفتار: ایران

علیحدگی پسند گروہ انصار الفرقان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز اطلاع دی کہ صوبہ ھرمزگان میں غیر معمولی حملے کے بعد ایرانی سکیورٹی فورسز نے ایک شخص کو گرفتار کیا جو مبینہ طور پر خودکش دھماکے سے منسلک تھا جس میں ایک پولیس کمانڈر ہلاک ہو گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملہ ہفتے کے روز جنوبی ساحلی شہر بندرلنگہ میں ہوا۔

سائٹ (ایس آئی ٹی ای) انٹیلی جنس گروپ کے مطابق اتوار کو علیحدگی پسند عسکریت پسند گروپ انصار الفرقان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ گروپ نے انصار الفرقان کے ٹیلی گرام چینل کا حوالہ دیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا (آئی آر این اے) نے اطلاع دی کہ "مہلک دہشت گردانہ حملے کے بعد ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔" ایجنسی نے مشتبہ شخص کی شناخت سمیت مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

اِرنا نے کہا کہ خودکش دھماکے میں حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا جس کی شناخت "تاحال درست طریقے سے نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔" ایجنسی نے یہ بات نائب صوبائی گورنر احسان کامرانی کے حوالے سے کہی۔

انہوں نے مزید کہا، "ثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تکفیری گروہوں سے وابستہ تھا۔" یہ اصطلاح ایران نے سنی عسکریت پسند گروہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جنہیں وہ انتہا پسند سمجھتا ہے۔

انصار الفرقان نے 2018 میں ہرمزگان سے ملحقہ سیستان-بلوچستان صوبے کے چابہار میں ایک تھانے میں دھماکہ خیز مواد سے بھری کار لے کر جانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

سیستان-بلوچستان طویل عرصے سے بدامنی سے دوچار علاقہ ہے جہاں اکتوبر میں 10 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اسے ایرانی میڈیا نے "دہشت گردانہ حملہ" قرار دیا تھا۔

پاکستان میں قائم سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل نے مذکورہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں