اسرائیل نے 22 قیدیوں کو رہا کرنے کی حماس کی پیشکش مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل اور حماس کے درمیان متوقع قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کی پیش رفت کے حوالے سے اسرائیلی نشریاتی ادارے "کے اے این" نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے یرغمالیوں کی اس فہرست کو مسترد کر دیا ہے جسے تل ابیب معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران رہا کرنے پر اصرار کرتا ہے۔

کمیشن نے ایک فلسطینی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ حماس ان چونتیس میں سے بائیس ناموں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے جنہیں اسرائیل پہلے مرحلے میں رہا کرانا چاہتا ہے۔

انہوں نے ذرائع کے حوالے سے مزید کہا کہ اس پیشکش میں "حماس کی جانب سے 12 لاشوں کی واپسی کی رضامندی بھی شامل ہے تاہم اسرائیل نے اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے"۔

اس سے قبل غزہ میں فوج بر قراررکھنے کے بارے میں سینیر سکیورٹی حکام کی وارننگ کے جواب میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل غزہ میں لڑائی میں واپس آئے گا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے مزید کہا کہ غزہ میں حماس کے باقی رہنے کا کوئی بھی حل مسترد کیا جاتا ہے۔ غزہ میں جنگ کے بعد کا مرحلہ اس وقت زیر بحث ہے اور اسرائیل غزہ میں حماس کے کردار کے خلاف ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے یہ بھی بتایا کہ غزہ میں وزیر اعظم کی طرف سے طے کی گئی پالیسی یہ ہے کہ غزہ میں نہ تو حماس اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی کا شہری کنٹرول ہوگا۔ یہاں تک کہ یہ دونوں غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کی نگرانی بھی نہیں کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اس معاہدے سے اتفاق نہیں کرتے جس میں جنگ کا خاتمہ اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کو واپس بلانا شامل ہے۔

معاہدے تک پہنچنے کی امید

اس ماہ کے شروع میں اسرائیل اور حماس کے عہدیداروں نے امید ظاہر کی تھی کہ مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت لڑائی کو روکنے اور حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے معاہدے پر منتج ہوگی، جس سے مکمل جنگ بندی معاہدے کی راہ کھل سکتی ہے۔

لیکن سال کے اختتام سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں امید ختم ہو گئی ہے اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچنے کے کتنے قریب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں