متنازعہ بل پر ووٹنگ: نیتن یاہو نے ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف ہسپتال چھوڑ دیا

اتمار بین گویر اور ان کی پارٹی کے دیگر افراد نے بل کی مخالفت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پارلیمنٹ میں ایک بل پر ووٹ دینے کے لیے ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف ہسپتال سے چلے گئے۔ اس بل سے ملک کو جنگوں کے لیے فنڈنگ میں مدد ملے گی۔ یہ قانون سازی ان کے پورے اتحاد کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اتحادی جماعتوں میں سے ایک کے سربراہ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی کے دیگر افراد اس بل کی مخالفت کریں گے جس کے بعد نیتن یاہو کنیسٹ کے لیے روانہ ہو گئے۔ ھداسا میڈیکل سنٹر کے ترجمان حدر ایلبوئم نے کہا کہ یہ فیصلہ "ڈاکٹرز کے مشورے کی سخت خلاف ورزی" تھا۔ 75 سالہ وزیرِ اعظم کی اتوار کی رات پروسٹیٹ کی سرجری ہوئی تھی۔

بین گویر نے کہا کہ وہ 2025 کے بجٹ کے مسودے پر احتجاج کرتے ہوئے بل کی حمایت نہیں کریں گے جسے انہوں نے "پولیس فورس کے لیے دھچکا" قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ بیزالل سماٹریچ نے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔

ہسپتال نے پیر کو کہا کہ وزیرِ اعظم بہتر محسوس کر رہے تھے اور ان کی حالت بہتر ہو رہی تھی۔ وزیرِ اعظم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ نیتن یاہو کے ذاتی ڈاکٹر ان کے ساتھ کنیسٹ گئے تھے اور یہ کہ وزیرِ اعظم ووٹنگ کے بعد ہسپتال واپس آ جائیں گے۔

بنک آف اسرائیل نے کہا کہ غیر تقسیم شدہ منافع سے متعلق اس بل کی منظوری دینا ضروری ہے۔

مرکزی بینک نے کہا، "اس بل سے بڑی اور مستقل آمدنی کا سلسلہ پیدا ہونے کی توقع ہے جو جنگ کے نتیجے میں ہونے والے مستقل اخراجات میں اضافے کو متوازن کرنے کے لیے ضروری ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں