جنین میں سکیورٹی مہم غیر قانونی اقدامات کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے: فتح موومنٹ

فلسطینی سکیورٹی فورسز 5 دسمبر سے مسلح دھڑوں کے ساتھ پرتشدد تصادم میں مصروف ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فتح تحریک کے ایک ذریعے نے اتوار کے روز ’’العربیہ ‘‘ اور ’’ الحدث‘‘ کو بتایا ہے کہ کہ جنین میں سکیورٹی مہم بدستور غیر قانونی اقدامات کا تعاقب کر رہی ہے۔ فلسطینی سیکورٹی فورسز 5 دسمبر سے کیمپ میں مسلح دھڑوں کے ساتھ پرتشدد تصادم میں مصروف ہیں۔ جمعہ کے روز مقامی صحت کے حکام نے بتایا تھا کہ ایک فلسطینی اور اس کا بیٹا شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں فلسطینی سکیورٹی فورسز اور مسلح گروپوں کے درمیان ایک ماہ سے جاری تصادم میں مارا گیا تھا۔

ایک الگ واقعے میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔ اس طرح جنین آپریشن میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی فورسز کے ارکان کی تعداد 6 ہوگئی۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی فورسز نے 44 سالہ شخص اور اس کے بیٹے کو جنین پناہ گزین کیمپ میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑا ہونے کے دوران گولی مار دی تھی۔

جنین میں گزشتہ ماہ کے دوران کم از کم 8 فلسطینی مارے گئے ہیں جن میں سے ایک جنین بریگیڈ کا رکن بھی شامل تھا۔ مسلح گروپوں میں حماس، اسلامک جہاد اور فتح کی تحریکوں کے مسلح ونگز کے ارکان شامل ہیں۔ فلسطینی سیکورٹی فورسز گزشتہ ماہ ایک کارروائی میں جنین میں داخل ہوئی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد "غیر قانونی" مسلح گروہوں کو ختم کرنا ہے جنہوں نے شہر اور اس کے ساتھ ہی پناہ گزین کیمپ میں طاقت کا اڈہ قائم کر رکھا ہے۔

اس آپریشن نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو خاصی عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ تاہم بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر مسلح گروہ اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں تو یہاں بھی ایسی ہی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں