شام میں جنگی جرائم کے مرتکب اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کی تلاش کی مہم جاری ہے۔ ان افراد کو جنھوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا سابق حکومت کی باقیات قرار دیا جا رہا ہے۔
آج منگل کے روز دمشق کے مغرب میں ایک سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ جنرل سیکورٹی کی فورسز نے عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ کے تعاون سے الزبدانی کے علاقے میں تلاشی کی مہم شروع کر دی۔
ذریعے نے بتایا کہ مہم کا ہدف گولہ بارود کے خفیہ ڈپوؤں کی برآمد اور بشار کی باقیات میں شامل عناصر کی گرفتاری ہے جنھوں نے اپنے ہتھیار حوالے کرنے اور تصفیہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بات شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سنا" نے بتائی۔
اس سے قبل عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ نے ہفتے کے رو اعلان کیا تھا کہ سیکورٹی اداروں نے حمص اور اس کے دیہی علاقوں میں سابق حکومت کی باقیات کا تعاقب جاری رکھا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ انتظامیہ نے حمص کے علاقے الزہراء میں گولہ بارود کا ایک گودام ضبط کر لیا۔
العربیہ نیوز کی معلومات کے مطابق تلاشی کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں تقریبا 150 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
اسی طرح جنرل سیکورٹی کی فورسز نے حلب شہر میں بھی وسیع سیکورٹی مہم کا آغاز کر دیا۔ بشار کی باقیات کے تعاقب کے مقصد سے جاری اس مہم کے نتیجے میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
شام کی وزارت داخلہ نے چند روز قبل "عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ" کے تعاون سے حمص شہر کے علاقوں کے علاوہ دمشق کے نواحی دیہی علاقے میں وسیع پیمانے پر تلاشی کے کئی آپریشن شروع کیے تھے۔
واضح رہے کہ بشار حکومت کے سقوط کے بعد نئی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے وقت سے اب تک شامی فوج کے سیکڑوں فوجیوں اور افسران نے تصفیے کے تحت خود کو حکام کے حوالے کیا۔
شامی اپوزیشن کے مسلح گروپوں نے بعض علاقوں میں "بشار کے آدمیوں" اور افسران کا تعاقب کیا جنھوں نے تصفیے کو مسترد کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ ان افراد کو گرفتار کر لیا گیا تا کہ انھیں منصفانہ عدالتی کارروائی کے لیے پیش کیا جا سکے۔
گذشتہ عرصے کے دوران میں متعدد ذمے داران ، فوجی شخصیات اور سیاست دان خود کے پکڑے جانے کے خوف سے ملک سے باہر فرار ہو چکے ہیں۔