شام کو قطر اور ترکیہ کی طرف سے ایسے بحری جہاز فراہم کیے جائیں گے جن پر بجلی پیدا کرنے کی سہولت ہوگی۔ تاکہ بشار الاسد رجیم کے زمانے میں بجلی بنانے کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود شامی عوام کو بجلی کی سپلائی کے انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ بات شامی خبر رساں ادارے 'ثناء' نے منگل کے روز رپورٹ کی ہے۔
قطر میں بجلی کی پیداوار اور ٹرانسمیشن سے متعلق ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے سے 'ثناء' نے رپورٹ کیا ہے کہ ان بحری جہازوں پر مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہوگی۔ تاہم ان کے بارے میں مزید تفصیلات خبر رساں ادارے نے رپورٹ نہیں کی ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل 'اسٹیبلشمنٹ فار الیکٹریسٹی، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبیوشن' خالد ابو داعی نے کہا ہے کہ بشار رجیم کے زمانے میں شام میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے کے نظام کو سخت نقصان پہنچا تھا۔ ہم اس نقصان کا ازالہ کر کے بجلی کے نظام کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم انہوں نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ شام کو بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے یہ بحری جہاز کب تک مل جائیں۔
واضح رہے ایک روز قبل امریکہ نے شام پر پہلے سے عائد کردہ پابندیوں کو ختم کر دیا ہے۔ یہ بڑا اقدام شام کی نئی رجیم کے لیے بڑا اچھا پیغام ہے۔ تاہم پابندیوں کا یہ خاتمہ فی الحال توانائی کی ترسیل اور ذاتی سطح کی ترسیلات زر کے سلسلے میں ہے اور یہ نرمی 7 جولائی تک برقرار رہے گی۔
خانہ جنگی کے دوران سے لے کر بعد تک بشار الاسد رجیم کے زمانے مں شام میں بجلی کی فراہمی کا مسئلہ بڑی سنگین شکل اختیار کر گیا تھا۔ شہریوں کو 24 گھنٹوں کے دوران صرف 2 یا 3 گھنٹوں کے لیے بجلی فراہم ہوتی تھی۔ علاوہ ازیں لمبی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
شام کی عبوری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کو کم از کم 8 گھنٹے تک روزانہ بجلی کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔