اسرائیل نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ترکیہ کی کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں رکوانے کے لیے ترکیہ پر دباؤ ڈالیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے سینیئر ذمہ دار ڈائریکٹر جنرل ایڈن بارٹل نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز اخبار نویسوں سے گفتگو میں کیا۔
انہوں نے شام کے شمالی علاقوں میں کرد جنگجوؤں پر ترکیہ کے حملوں کے خلاف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی۔
خیال رہے شامی کرد علاقوں سے تعلق رکھنے والی 'پی کے کے' کو ترکیہ دہشت گرد جنگجوؤں کا ٹولہ قرار دیتی ہے اور کردوں کی امریکی حمایت یافتہ فورس 'ایس ڈی ایف' کو بھی دہشت گرد مانتی ہے۔
8 دسمبر کے بعد سے ترکیہ کے حمایت یافتہ شامی گروپوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ 8 دسمبر کے بعد خود امریکہ اور اسرائیل بھی شام میں سینکڑوں مقامات پر بمباری کر چکے ہیں۔
اس سلسلے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ شام کے ان ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے بمباری کرتا ہے جن ہتھیاروں کا اسرائیل دشمنوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ ہے۔ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ شام پر بمباری اس لیے کرتا ہے تاکہ داعش کے پھر سے ابھرنے کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔
اسرائیل جس نے 15 ماہ کی غزہ جنگ کے دوران 45844 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ نیز غزہ کے بعد مغرنی کنارے، لبنان، شام ، یمن اور عراق و ایران تک اسرائیل نے اپنی کارروائیوں اور بمباریوں کا سلسلہ طویل کر رکھا ہے نے منگل کے روز عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ ترکیہ پر دباؤ ڈالیں تاکہ کرد جنگجوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
ایڈن بارٹل نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 'بین الاقوامی برادری کو لازماً ترکیہ کو روکنا چاہیے کہ وہ کردوں کے خلاف جارحانہ ہلاکتوں سے باز رہے اور بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ کردوں کا تحفظ کرے۔
واضح رہے اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اپنے آپ کو ایک ایسی مضبوط ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے جس کی رسائی اس کے قائدین کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ہر ملک تک ممکن ہے اور کوئی بھی ملک اس کی دسترس سے دور نہیں رہا ہے۔