سعودی عرب میں لائیو سٹاک سٹی ’’حفر الباطن‘‘ نے مویشیوں کی مصنوعات میں خود کفالت کے حصول کے لیے سعودی عرب کے رجحانات کے فریم ورک کو مضبوط بنانے میں اپنی اہمیت کو ثابت کردیا ہے۔ ’’ حفر الباطن‘‘ نے سعودی عرب کو فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے بڑا فائدہ دیا ہے۔ مویشیوں کا یہ شہر مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا شہر بن گیا ہے۔ یہ سٹی قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار کرتا اور درختوں اور زمین کی تزئین کے ذریعے ماحول کی حفاظت کر رہا اور ماحول کے معیار کو بڑھا رہا ہے۔
سعودی لائیو سٹاک سٹی ’’حفر الباطن‘‘ کا رقبہ 11 ملین مربع میٹر ہے۔ اس میں عمارت کا کل رقبہ 7.5 ملین مربع میٹر ہے۔ رقبے کی یہ نسبت آپریشن کو یقینی بنانے اور نقصان دہ ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کا ایک عملی طریقہ ہے۔ ’’ کوآپریٹو سوسائٹی فار لائیو سٹاک اینڈ مارکیٹنگ‘‘ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین انجینئرعبداللہ الغامدی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اس شہر کی خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’’انٹینسیو لائیو سٹاک سٹی‘‘ مربوط اور جامع ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ یہ شہر تمام بنیادی عناصر کو ایک ساتھ ملا کر مختلف گروپوں سے وسائل اور ملازمتیں حاصل کرتا اور وسائل میں جامع سرمایہ کاری کے ذریعے اعلیٰ معیارات حاصل کرتا ہے۔
جدید ڈیزائن
عبداللہ الغامدی نے بتایا کہ شہر کو "صحرا کے اندر مچھلی" کی شکل میں ڈیزائن کیا گیا تھا جس نے شہر کے ماحول کو کام اور زندگی کے ایک مربوط تصور کے ساتھ مربوط کیا اور ایک جدید ترتیب تشکیل دی۔ یہاں "مچھلی کی آنکھ" بین الاقوامی نمائش ہے جو زائرین اور سیاحوں کو شہر کے تصور سے آگاہ کرتی ہے۔ اس کا جسم زراعت ہے۔ اس کے پروں کی نمائندگی فوٹو وولٹک پینلز کر رہے ہیں۔ اس کی دُم میں پروسیسنگ انڈسٹری یا انوائرمنٹل سائیکل کو دکھایا گیا ہے۔
انجینیر الغامدی نے کہا کہ شہر کے اندر مختلف علاقوں کو مختلف کاموں کے حساب سے تقسیم کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں زراعت کا علاقہ، چارے کا علاقہ، ڈیری پروسیسنگ ایریا، اون پروسیسنگ ایریا، لیدر پروسیسنگ ایریا، آرگینک فرٹیلائزر پروڈکشن ایریا، آٹومیٹڈ سلاٹرنگ ایریا، ویٹرنری ہسپتال، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر، لائیو سٹاک کالج اور انسٹی ٹیوٹ، رہائشی علاقہ، انتظامی علاقہ، تجارتی بازار کا علاقہ، اور بین الاقوامی نمائش کا علاقہ شامل ہیں۔
گودام اور خدمات
عبد اللہ نے وضاحت کی کہ گودام کے علاقہ جو لائیو سٹاک سٹی کے مرکز میں واقع ہے، کو اعلیٰ ترین معیار کی خدمات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں سالانہ 2 ملین بھیڑوں کو ذبح کرنے کی گنجائش ہے اور اس میں 1.8 ملین بھیڑوں کا ذخیرہ ہے۔ لائیو سٹاک ایسوسی ایشن کا منصوبہ ہے کہ وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت، یونیورسٹی آف حفر الباطن، چائنیز نیشنل سنٹر، چائنیز ہنان انسٹی ٹیوٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ تعلیمی اور تربیتی پروگراموں کو ڈیزائن کرنے کے لیے کالج اور انسٹی ٹیوٹ آف لائیوسٹاک اور سعودی یوتھ ڈیولپمنٹ کو بااختیار بنایا جائے گا۔
گودام کے یونٹس کا ڈیزائن
الغامدی نے بتایا کہ بھیڑوں کے بارن یونٹس یا گوداموں کو زیادہ اور خشک درجہ حرارت والے علاقوں کے لیے موزوں بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس ڈیزائن میں سعودی عرب کی آب و ہوا، سبز مقامات، اچھی وینٹیلیشن اور روشنی، توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ ان گوداموں کی چھتوں کو سولر پینلز سے لیس کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ توانائی پیدا کرنے میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے اور سالانہ 1.5 بلین کلو واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ ڈیزائن CO2 کے اخراج کو 1 ملین ٹن تک کم کرتاہے۔ گوداموں کو کھولنے اور بند کرنے کا نظام ایسا ہے جو وینٹیلیشن کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور ماحول دوست ماحول فراہم کرتا ہے۔
فارم مینجمنٹ میں جدید ٹیکنالوجی
انہوں نے مزید کہا بھیڑوں کے گودام کی ہر اکائی خود سے دود پلانے والی بھیڑوں کے فارم کی تشکیل کرسکتی ہے۔ اس میں پیدائشی مدت کے لیے مخصوص جگہ ہے، دودھ پلانے کے لیے خصوصی گودام ہے۔ حمل کے دورانیے کے لیے الگ مقام رکھا گیا ہے۔ دودھ چھڑانے کی مدت کے لیے الگ مرکز بنایا گیا ہے۔ بھیڑوں کی افزائش اور ان کو موٹا کرنے کے لیے مخصوص گودام ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور موثر انتظام کے نمونوں کے ذریعے فارم کی کارکردگی کو بڑھا دیا گیا ہے۔
فیڈ کی پیداوار اور نقل و حمل کا نظام
لائیو سٹاک امور کے ماہر نے مزید کہا کہ بھیڑوں کی خوراک ملز میں تیار کی جاتی ہے اور اسے ریل سے چلنے والی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے ذریعے ہر زرعی گروپ کے مخصوص مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ پھر بھیڑوں کو چرانے کے لیے گوداموں تک پہنچایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھیڑوں کے گوداموں کے فرش کو ایک میکانزم کے ساتھ بنایا گیا تھا جو فضلہ کو خود کار طریقے سے خالی کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ فرش فضلہ کے انتظام میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس سے بھیڑوں کے رہنے والے ماحول میں بہتری آتی ہے۔ اس مخصوص طریقے سے بیماریوں سے بچاؤ کو فروغ ملتا ہے۔ اس کا ماحول پر مثبت حفاظتی اثر بھی پڑتا ہے۔ اس کے ذریعے کچرا کنویئر بیلٹ پر گرتا ہے تاکہ اسے گودام سے نکالا جا سکے۔ اس سے نقصان دہ گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملتی اور صحت مند ماحول میسر آتا ہے۔
طبی خدمات، تحقیق اور ترقی
ویٹرنری ہسپتال کا مقصد معیار کو یقینی بنانا، پہلی قسم کی زرعی طبی خدمات فراہم کرنا اور شہر کے اندر افزائش اور نسل کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ تحقیق اور ترقی کا مرکز گوشت اور دودھ کے لیے زیادہ پیداوار والی بھیڑوں کی نئی نسلیں تیار کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ لائیو سٹاک سٹی ’’ حفر الباطن‘‘ کے اندر تجارت اور تبادلے کو معیاری بنانے کے لیے متعلقہ نسلوں کے لیے ضوابط کی تشکیل کو فروغ دیا جارہا ہے۔ لائیوسٹاک کالج اور انسٹی ٹیوٹ ملک بھر کے نئے مویشیوں کے شہروں میں علم، ٹیکنالوجی اور فاضل بھیڑوں کی نسلوں کو مربوط کرے گا۔ اس سے نیشنل فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔
چارہ اور کھاد کی پیداوار کا حصہ
عبد اللہ نے وضاحت کی کہ فیڈ کا علاقہ تقریباً 210 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ اس علاقے میں 100 ٹن فی گھنٹہ کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ فیڈ ملز، فیڈ کو ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے اور لائیو سٹاک سٹی کے اندر اور باہر فیڈ برآمد کرنے کے لیے ایک گودام موجود ہے۔ کمپاؤنڈ فیڈ کی ایک مستحکم سپلائی چین کو یقینی بنایا گیا ہے۔
نامیاتی کھاد کی پیداوار کا علاقہ ایک لاکھ مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ اس میں ایک نامیاتی کھاد پلانٹ سے سالانہ دو لاکھ ٹن نامیاتی کھاد کی پیداوار متوقع ہے۔ ہر بھیڑوں کے گودام سے منسلک لاجسٹک نقل و حمل کے نظام کے ذریعے پانچ لاکھ نو ہزار ٹن فضلہ کو نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے کے لیے زیر زمین ٹینکوں میں منتقل کیا جائے گا۔
خودکار ذبح کے علاقے میں سہولیات
لائیو سٹاک سٹی ’’حفر الباطن‘‘ میں خودکار ذبح کا علاقہ 170 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ یہ علاقہ جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجیز سے آراستہ ہے۔ اس میں ذبح کرنے کا شعبہ، کھال اتارنے کا شعبہ، طبی معائنہ کے مقامات، معیاری لیبارٹری، مسترد شدہ بھیڑوں کے لیے گودام، پیکنگ کا شعبہ اور تیار شدہ مصنوعات کے ریفریجریٹرز کی جگہ شامل ہے۔ پوائنٹس آف سیل اور الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے مصنوعات کی مارکیٹنگ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
چمڑے، اون اور ڈیری کی پروسیسنگ
چمڑے کی پروسیسنگ کا علاقہ 35 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔ اس میں پروسیسنگ پلانٹ کی پیداواری صلاحیت 1.5 ملین مربع میٹر چمڑے سے زیادہ ہے۔ اس میں اعلیٰ معیار کے چمڑے کی تیاری کے لیے ضروری سہولیات کے ساتھ ساتھ پانی کی صفائی کے یونٹ اور تیار شدہ مصنوعات کے گودام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ چمڑے کی تیاری کا علاقہ 37 ہزار مربع میٹر پر پر محیط ہے اور اس میں ایک ماڈل فیکٹری شامل ہے جس کی پیداواری صلاحیت سالانہ تین لاکھ صارفین کے لیے تیار چمڑے کے پارچہ جات کی ہے۔
اون پروسیسنگ کا علاقہ 167 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ اس میں خام اون پیدا کرنے کے لیے ضروری تمام محکمے شامل ہیں۔ اس میں 5 ہزار ٹن سالانہ اون پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس منصوبے کے ساتھ اس کی بہاو والی صنعتوں کو دھاگے کی صنعتوں میں ترقی دینے کا منصوبہ بھی ہے۔
ڈیری پروسیسنگ کا علاقہ 55 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے اور اس میں ایک عام پلانٹ ہے جس کی پیداواری صلاحیت ایک لاکھ 40 ہزار لیٹر روزانہ ہے۔ شہر کی انتظامیہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ ایسے پروگراموں کو نافذ کرنے کے لیے کام کرے گی جو نوجوانوں اور خاندانوں کے لیے گھی، دودھ کی مصنوعات اور دہی کی فراہمی میں مدد کریں گے۔ ان مصنوعات پر ’’ حفر الباطن‘‘ کا لیبل لگایا جائے گا۔ انہیں نجی سیلز چینلز اور الیکٹرانک پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کو فروخت کیا جائے گا۔
بین الاقوامی نمائش اور واقعات
بین الاقوامی نمائش کا علاقہ تقریباً تین لاکھ 50 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔ نمائش کے اس علاقے میں لائیو سٹاک کی مصنوعات، اس کی ٹیکنالوجی سے متعلق بین الاقوامی نمائشیں، میلے، سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ علم اور تجربے کے تبادلے کے لیے اندرون و بیرون ملک کے ماہرین اور سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ نمائش سے سرکاری اور نجی شعبوں کے ساتھ ساتھ مقامی اور غیر ملکی تنظیموں کو فائدہ ملے گا۔
لائیو سٹاک کے مستقبل کے لیے سنہری موقع
عبد اللہ الغامدی نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ یہ تمام تفصیلات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ حفر الباطن سٹی ایک سنہری موقع ہے جو حفر الباطن گورنری کے لیے مشرق وسطی کی سب سے بڑی مویشیوں کی منڈی کی حیثیت سے مخصوص اور معیاری وسائل کے عزائم اور سرمایہ کاری کے وسیع افق کھولتا ہے۔