یونانی وزیراعظم کا العلا کا دورہ، سعودی ولی عہد سے ملاقات
یونانی وزیر اعظم دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے پہلے اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یونانی وزیر اعظم کیریا کوس میٹسوتاکس سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ العلا میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔
دورے کے شیڈول کے مطابق یونانی وزیر اعظم سعودی وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد القبی کے ہمراہ آثار قدیمہ کا دورہ کریں گے۔
اس کے علاوہ، یونانی صدر میٹسوتاکس دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے پہلے اجلاس میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو 2022ء میں اس وقت قائم ہوئی تھی جب ولی عہد محمد بن سلمان نے یونان کے دارالحکومت ایتھنز کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں انہوں نے دو طرفہ تعلقات پر بات کی تھی۔ اس وقت انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے مختلف شعبوں میں امید افزا مواقع اور انہیں ترقی دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔
یونانی صدر نے 2020 ءمیں سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد سے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور مختلف شعبوں میں ان کو فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
"ریاض - ایتھنز کی ترجیحات"
دریں اثنا ریاض اور ایتھنز علاقائی امن و سلامتی کے حصول کے لیے استحکام اور خوشحالی کی کاوشوں کو اپنی ترجیح سمجھتے ہیں۔ دونوں دوست ممالک دہشت گردی اور تشدد پر اکسانے مذمت کا اظہار کرتے ہوئے، بین الاقوامی برادری سے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیتے ہیں۔
سعودی عرب اور یونان جامع دوطرفہ فوجی تعاون کے معاہدے کے فریم ورک کے اندر حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر دفاع اور سلامتی کے شعبے میں اپنے کثیر جہتی تعاون کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کا مقصد دونوں ممالک اور پورے خطے میں سلامتی اور استحکام کو بڑھانا ہے۔
تین بلین تجارتی مالیت
اقتصادی طور پر 2023ء میں سعودی عرب اور یونان کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم تقریباً 3.713 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا، جب کہ دونوں فریق مملکت کے ویژن 2030 اور یونانی قومی بحالی کے اہداف کو ہم آہنگ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
نو سو اٹھانویں ملین ڈالر
دریں اثنا سعودی عرب نے 2023 ءمیں یونان کو 998 ملین ڈالر کی برآمدات کیں جن میں سے 762 ملین ڈالر کی تیل کی برآمدات تھیں اور 236 ملین ڈالر غیر آئل برآمدات تھیں۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک میں نجی شعبوں کے درمیان سرمایہ کاری کی شراکت کی حوصلہ افزائی کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے سہولیات فراہم کرنے اور نجی شعبے کو درپیش کسی بھی چیلنج کا حل تلاش کرکے مشترکہ کام اور رابطہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
-
سعودی عرب خطے کا استحکام مضبوط بنانے میں بنیادی شراکت دار ہے : رکن امریکی کانگریس
امریکی کانگریس کے رکن جو ویلسن نے شام کے حوالے سے ریاض اجلاس کی میزبانی پر مملکت ...
مشرق وسطی -
کابل : سعودی سفیر کی افغان وزیر خارجہ مولوی امیر متقی سے ملاقات
دوطرفہ تعلقات اور دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
بين الاقوامى