قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے اعلان کردیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینیوں قیدیوں کے تبادلے کا عمل آئندہ اتوار کو ہوگا۔
وزیر اعظم نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا قطر، مصر اور امریکہ کو غزہ کی پٹی کے تنازعے کے لیے دونوں فریقوں کے لیے مشترکہ ثالثی کی کوششوں کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے اور پائیدار امن کی طرف واپسی کے حوالے سے ایک معاہدے تک پہنچنے میں کامیابی ملی ہے۔
قطر کے وزیراعظم نے اس بات کی تصدیق کی کہ حماس پہلے مرحلے میں 33 قیدیوں کو رہا کرے گی۔ غزہ معاہدے میں امداد کی فراہمی اور ہسپتالوں کی بحالی شامل ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ پہلا مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا جس میں جنگ بندی ہوگی اور اس میں اسرائیلی افواج کا مشرق کی طرف انخلاء بھی ہوگا۔ قطر کے وزیراعظم نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ معاہدے پر عمل درآمد کا عزم کریں۔
-
جنگ کے بعد غزہ کو فلسطینی اتھارٹی چلائے: وزیرِ اعظم فلسطین
اسرائیل فلسطینی اتھارٹی اور حماس دونوں کی حکومت کا مخالف ہے
مشرق وسطی -
حماس نے تاحال غزہ کی تجویز پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا: دفتر اسرائیلی وزیرِ اعظم
منظوری دینے اور نہ دینے کی متضاد اطلاعات
مشرق وسطی -
غزہ معاہدہ ... نیتن یاہو کی مشاورت جاری ، حماس نے جواب کے لیے مہلت مانگ لی
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی علاقے کی فوجی کمان نے غزہ سے بتدریج ...
بين الاقوامى