نیتن یاہو کا حماس پر غزہ معاہدے سے پھر جانے کا الزام ، تنظیم کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس پر سمجھوتے کی بعض تفصیلات سے پھر جانے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے منظوری میں تاخیر پیش آ رہی ہے۔

آج جمعرات کے روز نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "حماس اس معاہدے کے بعض حصوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے جس پر وساطت کاروں اور اسرائیل کے ساتھ اتفاق رائے ہوا تھا، یہ آخری لمحات میں رعائتوں سے مکر جانے کی کوشش ہے"۔

بیان کے مطابق اسرائیلی حکومت اس وقت اکٹھا نہیں ہو گی جب تک وساطت کار اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ حماس نے معاہدے کے تمام اجزاء کو قبول کر لیا ہے۔

دوسری جانب حماس نے اس بات کی مکمل تردید کر دی ہے۔ تنظیم کے ایک اہم رہنما عزت الرشق نے باور کرایا ہے کہ حماس گذشتہ روز وساطت کاروں کی جانب سے اعلان کردہ فائر بندی معاہدے کی پاسداری کر رہی ہے۔

ادھر العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق اس التوا کی وجہ دوحہ سے اسرائیلی وفد کی واپسی کا انتظار ہے جو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں شریک تھا۔ اس لیے کہ یہ وفد اسرائیلی وزراء کو تفصیلات بیان کرے گا کہ انھیں کس چیز پر رائے شماری کرنا ہے۔
مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے بیچ بعض اختلافات حل نہیں ہوئے جو ان فسلطینی گرفتار شدگان کے ناموں سے متعلق ہیں جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا، مصر اور قطر کی سرپرستی میں کئی ماہ تک جاری مذاکرات کے بعد گذشتہ روز اعلان کی جانے والی فائر بندی تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ اس میں حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ، دشمنانہ کارروائیوں کا روکا جانا اور اسرائیل اور غزہ کے بیچ پوری سرحد پر 700 میٹر چوڑا ایک بفرزون بنانا شامل ہے۔

اسی طرح معاہدے میں اسرائیلی جیلوں سے 1000 سے زیادہ فلسطینیوں کی رہائی شامل ہے جس کے مقابل اسرائیلی یرغمالیوں کی آزادی عمل میں آئے گی۔ ان یرغمالیوں کی تعداد 100 کے قریب ہے جن میں بعض پہلے ہی مرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں