غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے، جس کا اعلان بدھ کو کیا گیا اور اس کا نفاذ 19 جنوری کو ہوگا، پر اپنے پہلے تبصرے میں ایرانی پاسداران انقلاب نے اسے اسرائیل کی فاش شکست قرار دیا۔ گارڈ نے اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے امکان کے بارے میں خبردار کیا اور خلاف ورزی کی صورت میں نئی جنگ کی تیاری کی ضرورت کا اشارہ دیا گیا۔ سپاہ پاسداران انقلاب نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہم نئی جنگوں اور جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی تیاری کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو یاد کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ، جس نے تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان 15 ماہ سے جاری خونریز جنگ کا خاتمہ کیا، فلسطین کی ناقابل تردید فتح اور اسرائیل کی ایک بڑی شکست ہے۔ جنگ کا خاتمہ اور صیہونی فوج پر کارروائیوں کی پابندی لگانے پر مشتمل معاہدہ ایک عظیم اور ناقابل تردید فتح اور ظالم صیہونی حکومت کی بڑی شکست ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنے ’’ ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ فلسطینیوں کے صبر و استقامت نے صیہونی وجود کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ لکھے گی کہ ایک دن صہیونیوں نے سب سے بھیانک جرائم کا ارتکاب کیا اور ہزاروں خواتین اور بچوں کو قتل کیا لیکن آخر کار وہ شکست کھا گئے۔
بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا
تحریک حماس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ایک کامیابی اور فخر کا باعث ہے۔ یہ 15 ماہ تک غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی شاندار ثابت قدمی کا ثمر ہے۔ حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے تصدیق کی کہ جنگ نسلوں تک جاری رہے گی اور رکے گی نہیں۔ اسرائیل نے غزہ میں تباہی، بربادی اور قتل و غارت کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔
ساتھ ہی زیادہ تر عرب اور مغربی ملکوں نے بھی جنگ کے خاتمے کا خیر مقدم کیا۔ اردن نے غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چینی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ متعلقہ فریق خطے میں امن کو بڑھانے کے لیے جنگ بندی کا فائدہ اٹھائیں گے۔
سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی قتل عام کی اسرائیلی کارروائیاں 15 ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہیں ۔ ان کارروائیوں میں 47 ہزار کے قریب فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ شہدا میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ 20 لاکھ کے قریب فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور غزہ کی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔ انسانی اور طبی امداد کی کمی کی وجہ سے لاکھوں افراد کو بھوک کا سامنا ہے۔
واضح رہے 15 جنوری بدھ کو جس جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا گیااس پر 3 مراحل میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ غزہ میں زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ ایک بفرزون کے قیام کی بھی شرط رکھی ہے یہ بفرزون 700 میٹر چوڑا ہے۔ پانچ پوائنٹس پر اس کی چوڑائی 400 میٹر تک ہوگی۔