اسرائیل کی نئی سر دردی: 'فلسطینی اسیروں کی رہائی پر خوشی کا اظہار روکا جائے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حماس کے ساتھ اسرائیل کے جنگ بندی معاہدے پر کٹر انتہا پسند یہودی جماعتوں کی پریشانی اور غم و غصہ تو کئی دنوں سے سامنے آرہا تھا اب اسرائیلی حکومت نے اپنے اصل جذبات کا اظہار اس طرح ضروری سمجھا ہے کہ اسرائیلی جیلوں سے جب بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہو تو فلسطینی شہری اس پر کسی خوشی کا اظہار نہ کر سکیں، جیسا پچھلے دو دنوں غزہ میں دیکھنے کو آچکا ہے۔

یہ بات اسرائیلی جیل حکام نے اس وقت کہی جب وہ جمعہ کے روز حماس اسرائیل معاہدے کی روشنی میں ملنے والی حکومتی ہدایات کے مطابق فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تیاریوں اور انتظامات کا ذکر کر رہے تھے۔

اسرائیلی جیل سروسز نے واضح انداز میں کہا کہ ہمیں ہدایت ملی ہے کہ قیدیوں کی رہائی اتوار کے روز سے شروع ہو سکتی ہے، تاہم اس موقع پر اس کا اہتمام کیا جائے گا کہ کوئی فلسطینی رہائیوں پر خوش نہ دکھائی دے اور نہ ہی کوئی جشن والی کیفیت پیدا ہو۔

اسئیلی جیل سروسز کی طرف سے یہ بات جمعہ کے روز ایک بیان میں کہی گئی ہے۔ جیل سرورسز کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو اتوار کے روز سے خاموشی سے رہا کرنے کے لیے یہ انتظام کیا جا رہا ہے کہ انہیں یروشلم کی ایک نزدیکی جیل سے اور دوسری جنوبی شہر عسقلان کی جیل سے رہا کیا جائے۔ اس لیے انہیں ان دونوں جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

جیل سروسز کے کمشنر میجر جنرل کوبی یو یعقوبی نے ہدایات دی ہیں کہ فلسطینیوں کی رہائی کے موقع پر فلسطینیوں شہریوں کو خوشی منانے کے سلسلے میں جیلوں کے باہر یا کسی دوسی جگہ پر اکٹھا نہ ہونے دیا جائے۔ اس لیے فلسطینی قیدیوں کو شکیا سے پہرے میں منتقل کیا جائے۔ نہ کہ یہ سفر صلیب احمر کی فراہم کردہ سویلینز بسوں میں کرایا جائے گا۔

جیسا کہ جنیوا میں قائم صلیب احمر کمیٹی ان قیدیوں کی رہائی نومبر 2023 کے جنگ بندی معاہدے کے دوران کیا تھا۔ جب غزہ سے 105 قیدیوں کو رہائی ملی تھی۔ ان کے بدلے میں 240 فلسطینی قیدی رہا کرنا اسرائیل نے قبول کیا تھا۔ اب ایسا نہ کیا کیا جائے۔

جیل کمشنر کے بیان کے مطابق انہوں نے معاہدے کے حت رہائی کے لیے نامزد فلسطینی قیدیوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ رہائی پر خوشی کا اظہار نہ کریں۔ واضح رہے اس رہائی معاہدے کی منظوری جمعہ کے روز اسرائیلی جنگی کابینہ نے دی ہے۔

اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر پہلے ہی فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی معاہدے کے خلاف حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ انہوں نے لیکوڈ پارٹی کے لوگوں سے بھی کہا ہے کہ اس معاہدے کو اب بھی رکوایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے معاہدے کے مطابق پہلے مرحلے کے 42 دنوں کے دوران 33 اسرائیلی قیدی غزہ سے حماس رہاکرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں