یورپی یونین جنگ بندی کے بعد یورپی یونین اپنے فوجیوں کو نگرانی مشن کے تحت کی رفح راہداری کی سنبھالنے کے لیے تعیناتی پر تیار ہے۔ یہ عندیہ اعلی ترین سفارتکار نے جنگ بندی معاہدے کے بعد دیا ہے۔
خارجہ پالیسی کی سربراہ 'کاجا کلاسا' نے جمعہ کے برسلز میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد مصطفیٰ کے ساتھ ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سےگفتگو کر رہی تھیں کہ 'ہم غزہ بارڈر پر تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔'
خارجہ امور کی سربراہ نے کہا 'مگر ایسا کرنے کے لیے ہمیں فلسطینیوں کو اسرائیلیوں کی طرف سے دعوت دیے جانے کی ضرورت ہے۔ نیز اس کے لیے مصر کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہو گی۔ تبھی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔'
واضح رہے 27 ملکوں کا یورپی بلاک نے 2005 میں غزہ پر اسرائیلی قبضے کے دنوں میں اپنی افواج تعینات کی تھیں۔ بعد ازاں 2007 میں غزہ کا کنٹرول حماس نے سنبھال لیا تو یہ یورپی فوج واپس چلی گئی۔
یورپی یونین کی طرف سے اس امر کی خواہش اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی جنگ بندی معاہدے کو دی گئی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے۔ معاہدے پر 19 جنوری کو اتوار کے روز سے عمل شروع ہو گا۔
یورپی یونین خارجہ امور سربراہ نے اس جنگ بندی معاہدے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا مگر ساتھ ہی انتباہ کیا اگے کا راستہ کئی امکانی مشکلات اور خطرات سے بھرا ہوا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں کہنے میں احتیاط برتی کہ آیا جنگ بندی معاہدے کے بعد جنگ واقعی ختم ہو جائے گی۔ ' ہم جانتے ہیں کہ ہر قدم پر خطرہ باقی ہے۔ اس لیے ابھی یہ کہنا کی جنگ صدق دل سے ختم ہو رہی بہت جلدی ہو گا۔'
یورپی یونین نے جمعرات نے غزہ کےلیے انسانی بنیادوں پر 123 ملین ڈالر کی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔ کلاسا نے کہا 'یورپی یونین انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ جڑ کر کام کرتی رہے گی۔'