جنگ بندی ملتوی کرنے کے بعد اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی میں حملے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ صہیونی فوج نے کہا ہے کہ جنگ بندی ابھی تک عمل میں نہیں آئی ہے کیونکہ حماس نے ان قیدیوں کے ناموں کی فہرست فراہم نہیں کی ہے جنہیں اسے رہا کرنا تھا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے علاقے میں اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق اس وقت تک جنگ بندی عمل میں نہیں آئے گی جب تک حماس اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی میں "اہداف" پر بمباری کی ہے۔ یہ حملے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے التوا کے درمیان ہوئے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ تحریک کی جانب سے پہلے دن رہا کیے جانے والے اسرائیلی قیدیوں کی فہرست بھیجنے میں تاخیر ہوئی ہے۔

ہگاری نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ یہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 8 بجے اور جی ایم ٹی کے مطابق صبح ساڑھے 6 بجے ہونا تھی۔ حماس کی جانب سے رہا کیے جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کے ناموں کی فہرست پیش نہیں کی جا سکی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ حماس غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ سے چند منٹ قبل قیدیوں کے ناموں کی فہرست اسرائیل کو بھیجنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہوگا جب تک کہ حماس اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی۔ ہم معاہدے کی ہر خلاف ورزی کا مناسب جواب دیں گے۔

اتوار کو غزہ جنگ بندی کے نفاذ سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اس نے فوج کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں اس وقت تک جنگ بندی پر عمل درآمد شروع نہ کرے جب تک کہ حماس قیدیوں کے نام ان کے حوالے نہیں کر دیتی۔

دوسری طرف حماس نے تصدیق کی ہے کہ قیدیوں کی فہرست حوالے کرنے میں تاخیر فیلڈ کی تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس سے قبل العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ حماس اتوار کو رہا ہوناے والے قیدیوں کی فہرست چند گھنٹوں کے اندر حوالے کر دے گی۔

نیتن یاہو نے یہ بھی کہا ہے کہ تل ابیب غزہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گا۔ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ذمہ داری تنہا حماس پر عائد ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان نے وضاحت کی کہ مذکورہ فہرست ان قیدیوں کی فہرست ہے جنہیں اسرائیلی حکام کے مطابق اتوار کو جنگ بندی کے نافذ ہونے کے چھ گھنٹے بعد 14:30 جی ایم ٹی رہا ہونا ہے۔

یہ بیان حماس کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے کہ رہائی پانے والوں کی فہرستیں ہر تبادلے کے دن سے پہلے شائع کی جائیں گی۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ یہ نکتہ معاہدے کے مطابق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں