معاہدے کے باقی رہنے کا انحصاراسرائیل پر ہے، خلاف ورزی یرغمالیوں کے لیے خطرناک ہوگی: القسام

حماس کے عسکری شعبے اور غزہ میں پندرہ ماہ سے زائد عرصے تک جنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یں اسرائیل کا مقابلہ کرنے والے مزاحمتی گروپوں میں سے سب سے بڑے گروپ القسام بریگیڈ نے جنگ بندی معاہدے کے بارے میں اسرائیلی اعلی عہدے داروں کے اتوار کے روز سامنے آنے والے بیانات پر کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی القسام کی طرف سے پابندی کی جائے گی ۔ مگر اسرائیل یا اس کی فوج نے کوئی خلاف ورزی کی تو اس سے یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

القسام کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں جنگ بندی معاہدہ کرانے والے ثالث ملکوں سے کہا ہے وہ اسرائیل کو معاہدے پر عمل کرنے لیے مجبور کریں۔

ابو عبیدہ نے اس ویڈیو بیان میں یہ بھی کہا ہے ' القسام معاہدے کے تمام مراحل کی پابندی کرے گا اور اس دوران غزہ میں دونوں طرف کے قیدیوں کی رہائی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا۔ لیکن اس کا انحصار دشمن کے ارادوں پر ہو گا، اگر قبضے نے خلاف ورزیوں کی کوشش کی تو اس سے تبادلے میں رہائیوں کا عمل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔'

ترجمان القسام بریگیڈ نے کہا ' ہم اپنے لوگوں کے خون کے تحفظ اور ذپنے مقاصد کے تحفظ کے لیے معاہدے کے تمام مراحل اور ان سے متعلق تمام تر تفصیلات پر بروقت عمل اور کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس لیے ثالثوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ دشمن کو بھی معاہدے کی پابندی پر مجبور کریں۔'

واضح رہے اتوار ہی کے روز اس سے پہلے القسام کے اہلکاروں نے تین اسرائیلی قیدی خواتین کو عالمی ریڈ کراس کے حوالے کر کے رہا کیا ۔ ان تین اسرائیلی خواتین کے بدلے میں اسرائیل کو 90 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی جیلوں سے رہا کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں