شام کی انتظامیہ تعاون کررہی ہے، جنگ سے گریز کرنا ہوگا:سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کی مدد کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے زور دیا کہ برادر عرب ملک کو مثبت سمت میں لے جانے کا بہترین موقع ہے۔

شام پر سے پابندیاں اٹھانے پر زور

انہوں نے منگل کوسوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کے دوران مزید کہا کہ شامی انتظامیہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کی بڑی خواہش رکھتی ہے۔

انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت کی طرف بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو عبوری مرحلے میں شام کی مدد کرنی چاہیے۔

لبنان کا دورہ

سعودی وزیر ؒخارجہ نے صدر جوزف عون کے انتخاب کو ایک بہت ہی مثبت چیز قرار دیتے ہوئے اس ہفتے بیروت کا دورہ کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا۔

انہوں نے دنیا کو لبنان میں حقیقی اصلاحات دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ریاض اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ نئی امریکی انتظامیہ جنگ کے خطرے کو بڑھانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو غزہ میں جنگ بندی کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک خطے میں کسی بھی جنگ سے گریز کا خواہاں ہے۔

بڑی تبدیلیاں

ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ، نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور لبنان میں تل ابیب اور حزب اللہ کے درمیان 60 دن کی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے چند دن پہلے ہوا ہے۔

سعودی عرب نے بارہا شام پر عائد یکطرفہ اور بین الاقوامی پابندیاں ہٹانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا جاری رہنا شامی عوام کی ترقی اور تعمیر نو کی خواہشات کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔

جبکہ امریکہ نے چند روز قبل شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل کو آسان بنانے کی کوشش میں شام میں حکمراں اداروں کے ساتھ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد چھ ماہ کے لیے مالیاتی منتقلی پر پابندیوں سے استثنیٰ کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں