غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک حماس نے 15 ہزار نئے جنگجو بھرتی کیے: امریکی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حماس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک دس سے پندرہ ہزار کے درمیان ارکان بھرتی کیے ہیں، یہ بات امریکی انٹیلی جنس سے واقفیت رکھنے والے دو کانگریسی ذرائع نے بتائی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ مزاحمت کار اسرائیل کے لیے ایک مستقل خطرہ بن سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس سے پتہ چلتا ہے کہ اس عرصے کے دوران اتنی ہی تعداد میں حماس کے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ تازہ ترین سرکاری امریکی تخمینوں کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی۔

ذرائع نے بتایا، حماس نے کامیابی کے ساتھ نئے ارکان کو بھرتی کیا ہے لیکن ان میں سے کئی نوجوان اور غیر تربیت یافتہ ہیں اور انہیں سادہ سکیورٹی مقاصد کے لیے ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔

نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

سابق وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے 14 جنوری کو خبردار کیا کہ یہ "ایک پائیدار شورش اور دائمی جنگ کا نسخہ تھا۔"

انہوں نے اس جائزے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں جنگجوئوں کی ہلاکتوں کی کل تعداد 20,000 کے قریب ہے۔

بلنکن نے کہا تھا، "جب بھی اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد دستبردار ہو جاتا ہے تو حماس کے ارکان دوبارہ منظم ہو جاتے اور ابھر آتے ہیں کیونکہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے اور کچھ نہیں ہے۔" اسرائیل اور امریکہ دونوں حماس کو دہشت گرد گروپ قرار دیتے ہیں۔

تبصرے کے لیے سوال پر حماس کے ایک اہلکار نے کہا کہ وہ گروپ میں متعلقہ فریقوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے جولائی میں کہا تھا کہ گروپ ہزاروں نئے مزاحمت کاروں کو بھرتی کرنے میں کامیاب رہا۔

جنگ بندی کے بعد کے دنوں میں حماس نے ظاہر کیا ہے کہ وہ غزہ میں بہت گہری جڑیں رکھتی ہے حالانکہ اسرائیل نے اسے تباہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات دوبارہ نافذ کرنے اور انکلیو کے بعض حصوں میں بنیادی خدمات کی بحالی شروع کرنے کے لیے تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکی حکام نے اعلانیہ یہ نہیں بتایا کہ واشنگٹن کے خیال میں حماس کتنے مزاحمت کاروں سے محروم ہوئی ہے۔ اس نے صرف یہ نوٹ کیا کہ اس گروپ کو نمایاں طور پر مزاحمت کاروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور ممکنہ طور پر اس کے ہزاروں ارکان ہلاک ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں