اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اتوار کو کہا ہے کہ تل ابیب اسرائیل کی سلامتی کو بڑھانے کے لیے دفاعی اور حملے کے نظام کی پیداوار بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے ملک کو دو ہزار پاؤنڈ بم فراہم کرنے کی منظوری کا خیرمقدم کیا۔
یہ اعلان ٹرمپ کے "ٹروتھ سوشل" پلیٹ فارم کے ذریعے یہ کہنے کے بعد سامنے آیا کہ اسرائیل نے امریکہ سے جو "بڑی تعداد میں چیزیں" مانگی تھیں ان کو فی الحال پہنچایا جا رہا ہے۔
یہ بیان ان پریس رپورٹس کے بعد سامنے آیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے 2,000 پاؤنڈ (907 کلوگرام) وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل کے لیے جاری کی ہے۔ گزشتہ برس بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو 1800 ایسے بموں کی فراہمی ایک ایسے وقت میں معطل کر دی تھی جب اسرائیلی فوج جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ اس وقت جنوبی غزہ میں 1.4 ملین فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ بائیڈن نے اس وقت انتباہ بھی کیا تھا کہ ان جیسے علاقوں میں اس قسم کے بم کا استعمال ایک عظیم انسانی المیے کا سبب بنے گا۔