بنکاک میں خیر امت کانفرنس: سعودی وزیر کا اسلامی اتحاد پر زور
مملکت مسلمانوں کے درمیان بقائے باہمی اور تعاون کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم
سعودی عرب کے اسلامی وزیر شیخ عبداللطیف آلِ الشیخ نے ہفتے کے روز بینکاک میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کی تیسری خیر امت کانفرنس کا افتتاح کیا۔
اس تقریب میں تھائی قومی اسمبلی کے صدر وان محمد نور ماتھا سمیت متعدد وزراء، مفتیان اور اسلامی یونیورسٹیوں، مراکز اور انجمنوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی خبر کے مطابق الشیخ نے اس بات پر زور دیا کہ کانفرنس کا مقصد اسلامی اتحاد اور حق کی پاسداری اور اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے والی یکجہتی کو فروغ دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز اور دنیا کو درپیش فکری، سیاسی، سماجی اور سلامتی کی تبدیلیوں کی روشنی میں علماء کی اہم ذمہ داری ہے۔
الشیخ نے کہا، "یہ صورتِ حال علماء اور محققین کی طرف سے حقیقی ردِ عمل کا تقاضہ کرتی ہے کہ فتنے کے خلاف صحیح مذہبی مؤقف کو واضح کریں اور اسلامی عقیدے کے بنیادی اصولوں کو تقویت دیں۔"
انہوں نے مزید کہا، فکری اور نظریاتی انحراف کی وجہ سے علماء اور مبلغین کی ذمہ داری بڑھ رہی ہے جو کوششوں کو درست کرنے، شریعت کی پاسداری، سنتِ نبوی کی حفاظت، اسلامی اقدار کو فروغ دینے اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے محتاط غور و فکر کا تقاضہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، "سعودی عرب زائرین، مسافروں اور عازمینِ عمرہ کی خدمت کے لیے پرعزم ہے۔ مملکت دنیا بھر میں متعدد زبانوں میں قرآنِ پاک کی طباعت اور تقسیم کے لیے بھی وقف ہے۔"
کئی شرکاء نے تقاریر میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کی خدمات کا شکریہ ادا کیا اور رواداری کے فروغ، تشدد اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور مسلمانوں کے درمیان تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔
ایس پی اے نے رپورٹ کیا کہ الشیخ کو دیا گیا میڈل ایوارڈ اسلام کی خدمت، اعتدال پسندی اور رواداری کے فروغ اور نفرت انگیز تقریر اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کی نمایاں خدمات کا اعتراف ہے۔
الشیخ نے عظیم اسلامی اقدار کی ترویج اور بقائے باہمی کی ثقافت کو فروغ دینے کی کوششوں پر تھائی لینڈ کے شیخ الاسلام کا شکریہ ادا کیا۔