احمد الشرع شام میں خواتین کے حقوق کے احترام پر قائم ہیں : عہدے دار یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپی یونین میں بحرانات سے متعلق انتظامیہ (کرائسسز مینجمنٹ) کی سربراہ الحاجہ لحبیب نے آج پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے سامنے شام کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

الحاجہ نے 10 روز قبل دمشق کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے نئی شامی انتظامیہ کے قائد احمد الشرع سے ملاقات کی۔

الحاجہ نے وزرائے خارجہ اجلاس میں بتایا کہ الشرع کے ساتھ ان کی بات چیت بھرپور، صریح اور دوستانہ رہی۔

العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق الحاجہ نے مزید بتایا کہ الشرع نے جامع سیاسی راستے کے آغاز پر اپنے اعتماد کو باور کرایا جس کے تقاضوں میں انسانی حوق اور خواتین کے حقوق کا احترام شامل ہے۔

جہاں تک شمال مشرقی شام کی صورت حال کا تعلق ہے تو الحاجہ نے واضح کیا کہ الشرع نے کردوں اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو معاشرے اور شامی قومیت میں شامل ہونے کی پیش کش کی ہے۔ تاہم انھوں نے ملک کے شمال مشرق میں جیو پولیٹیکل صورت حال اور عدم استحکام پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

الحاجہ کے مطابق تمام شامی شہری پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کے بارے میں الحاجہ نے کہا کہ جنگ کے دوران فرار ہونے والے شامیوں میں سے بڑی تعداد کی واپسی کی توقع نہیں ہے کیوں کہ ملک کی صورت حال کمزور ہے۔ الحاجہ کے مطابق وہ پناہ گزینوں کے ہائی کمیشن کے ساتھ مشاورت کر رہی ہیں۔

اپنی گفتگو کے آخر میں الحاجہ لحبیب نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ دو صورتوں میں سے ایک کو اختیار کر لے کہ یا وہ شام میں ایک فعال کردار ادا کرے اور یا پھر دیگر کھلاڑیوں کے لیے میدان چھوڑ دے۔

توقع ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے شام پر عائد پابندیوں کا ایک حصہ اٹھا لیا جائے گا۔ بالخصوص فرانس کے وزیر خارجہ جان نویل بارو نے آج اس بات کو باور کرایا ہے۔

یاد رہے کہ شام کی جنگ نے جو 14 برس جاری رہی، کئی بڑے شہروں میں وسیع رقبوں کو تباہ کر ڈالا اور بنیادی خدمات کو معطل کر دیا۔

اس کے نتیجے میں آبادی کا بڑا حصہ غربت کا شکار ہو گیا۔ ملک کیپٹاگون (نشہ آور مواد) تیار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا کارخانہ بن گیا۔ اس اثنا میں مغربی ممالک کی سخت پابندیوں نے عملی طور پر شام کی معیشت کو بقیہ دنیا سے الگ کر دیا۔

تاہم کئی یورپی ممالک نے نے پابندیاں اٹھائے جانے کو شام میں سیاسی اقتدار کی پر امن منتقلی اور بھرپور نوعیت کی حکومت کی تشکیل کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ ایسی حکومت جو شامی معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی کرے اور اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کا احترام کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں