اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ' انروا ' حماس کے ساتھ یک جان ہے : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی ترجمان نے اقوام متحدہ کی ایجنسی ' انروا' پر ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ اس ادارے نے عوامی سطح پر ایسے کئی شواہد ظاہر کیے ہیں کہ اس کا حماس سے گہرا تعلق ہے۔ اسرائیلی ترجمان ڈیوڈ میسر کا یہ بیان ' انروا' پر اسرائیلی پابندی کے عملی اطلاق سے ایک دن پہلے سامنے آیا ہے۔

ترجمان نے الزام لگایا کہ وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ جو بھی ملک اقوام متحدہ کے اس ادارے ' انروا' کو فنڈنگ کرے گا وہ دہشت گردی کی فنڈنگ کرے گا۔'

اسرائیل کی طرف سے یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ' انروا' کے 1200 ارکان حماس کے بھی ارکان ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے سات اکتوبر کے حملے میں حصہ لیا تھا۔ اس لیے ' انروا' کا ادارہ امدادی ادارہ نہیں بلکہ دہشت گردی کا مدد گار ادارہ ہے۔'

یاد رہے امریکی حمایت کے ساتھ اسرائیل جمعرات کے روز سے ' انروا' پر باضابطہ پابندی کو عملی طور پر نافذ کرنے جا رہا ہے۔اس اقدام کی امدادی اداروں کے علاوہ امریکی اتحادیوں نے بھی مذمت کی ہے۔

' انروا' کا امدادی ادارہ اقوام متحدہ نے اس وقت قائم کیا تھا جب اسرائیل کے قیام کے لیے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے دوسری جگہوں پر منتقل کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا، اس وقت سے اردن ، لبنان و غیرہ میں قائم کیے گئے پناہ گزین کیمپوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی کے اندر بھی یہ ادارہ پناہ گزین کیمپوں اس ادارے کے مطابق اس نے جنگ کے دوران غزہ میں ساٹھ فیصد خوراک کی ترسیل ممکن بنائی ہے، میں سرگرم ہے۔

جبکہ اسرائیل کو اس کی سرگرمیوں سے تکلیف ہے اور وہ اس کی وجہ سے بھی کافی تنگ ہے۔ فلسطینی عوام کو خوراک اور ادویات کی فراہمی کی سرگرمیوں کو اسرائیل اپنی پالیسی کے خلاف سمجھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ' انروا' کے خلاف اسرائیلی اقدامات اور پابندی لگانے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ' انروا' پر پابندی سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ اس ادارے کا ریلیف کے حوالے سے کوئی متبادل نہیں ہے۔ '

خیال رہے اقوام متحدہ کے لیے اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون نے منگل کے روز سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ' انروا ' کے اہلکاروں کو مشرقی یروشلم سے بھی جمعرات کے روز نکلنا ہو گا۔'

اگرچہ اسرائیل کے ' انروا' کے خلاف لگائے گئے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ اسرائیل نے اپنے الزام کے حق میں ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیل ' انروا' پر پابندی لگا چکا ہے اور امریکہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس کا وزن اسرائیل کے حق میں مزید چلا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں