زخمیوں کا پہلا گروپ رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ سے نکل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آٹھ ماہ سے زیادہ کی بندش کے بعد غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کو آج ہفتے کے روز دوبارہ کھول دیا گیا ۔، زخمیوں کو لے جانے کے لیے بڑی تعداد میں ایمبولینسیں پہنچ گئیں۔ العربیہ کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق کراسنگ کھولنے کے پہلے دن زخمیوں کو مصر کے اسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اسرائیل 50 بیمار فلسطینیوں اور 50 زخمیوں کو روزانہ اپنے ساتھیوں سمیت جنگ بندی معاہدے میں شامل شقوں کے مطابق غزہ سے باہر جانے کی اجازت دے گا۔

فلسطینی وزارت صحت نے کل اعلان کیا کہ مصری فریق کی طرف سے فراہم کردہ ایک بیان کی بنیاد پر مریضوں اور ان کے ساتھیوں سے سفر کی تیاری کے لیے رابطہ کیا جائے گا اور انہیں غزہ کے الشفا میڈیکل کمپلیکس اور یونس خان میں ناصر میڈیکل کمپلیکس میں جمع کیا جائے گا۔

انسانی ہمدردی کے انتظامات

رفح کراسنگ کا افتتاح ایک نازک وقت پر ہوا ہے کیونکہ غزہ کے ہسپتال انفیکشن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور طبی سامان کی کمی کا شکار ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے زخمی فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ 11 ہزار 580 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 12 ہزار زخمیوں کو غزہ کی پٹی سے فوری طور پر طبی انخلا کی ضرورت ہے۔

نئے انتظامات

2007 سے حماس تحریک نے کراسنگ کے انتظام کو کنٹرول سنبھالا تھا لیکن اب رفح کراسنگ دوبارہ کھلنے پر اس کی نگرانی یورپ کا "یو بام رفح" مشن اس کراسنگ کی نگرانی کرے گا۔ اس مشن میں شامل فلسطینی ملازمین کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے ارد گرد محدود اسرائیلی نگرانی اور کنٹرول بھی جاری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کی منظوری کے بغیر کوئی بھی کراسنگ کوعبور نہ کر سکے۔

اپنی طرف سے فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی پابندیوں کے باوجود کراسنگ کے انتظام میں اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے دراصل اپنی طرف سے کراسنگ کے انتظام کے لیے ایک نگران مقرر کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رفح میں کام کرنے کے لیے اتھارٹی کے ملازمین کی واپسی پی ایل او اور اسرائیل کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق کراسنگ کے انتظام میں اس کے کردار کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں