اردن کے شاہ عبداللہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 11 فروری کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ اس امر کی اطلاع اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کے کے روز دی ہے ۔
یہ خبر عرب وزرائے خارجہ کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ کے اس منصوے کو مسترد کرنے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے ، جس میں غزہ کے لاکھوں فلسطینیوں کو ہمسایہ ملکوں مصر اور اردن میں بھیج دینے کا کہا گیا ہے۔
عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جس میں اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفادی قاہرہ میں موجود تھے۔ اس اجلاس میں مصر کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ عرب لیگ کے اعلیٰ عہدے دار نے بھی و دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی۔
شاہ اردن کی امریکی صدر کے ساتھ متوقع ملاقات کا فیصلہ بھی امریکہ کے اسی منصوبے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق غزہ سے دس لاکھ فلسطینیوں کو صدر ٹرمپ مصر اور اردن میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ تاکہ غزہ میں صفائی کا عمل مکمل کیا جاسکے۔
لیکن اس امریکی منصوبے کے سامنے آنے پر سوائے اسرائیل کے مشرق وسطیٰ سے کسی بھی ملک اور عرب ملکوں نے اتفاق نہیں کیا ہے۔
مصر اور اردن نے بھی ٹرمپ کے اس منصوبے کو مستد کیا ہے اور اسے نہ صرف فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی قرار دیتے ہوئے ان کی سرزمین سے انہیں بے دخل کرنا قرار دیا ہے بلکہ اپنے ملکوں کے لیے بھی اچھا خیال نہیں کیا ہے۔
مصر کے صدر السیسی نے اسے امریکی خواہش کو بدھ کے روز فلسطینیوں کی غیر منصفانہ بنیادوں پر نقل مکانی قرار دیا اور کہا کہ ان کا ملک اس میں کبھی حصہ دار نہیں بن سکتا ہے۔
اردن کے صدر کے امریکہ کے دورے پر جانے کے حوالے سے ابھی یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ ملاقات کس کی خواہش پر طے کی گئی ہے۔