شام : انتخابات کے انعقاد میں پانچ سال لگ سکتے ہیں: احمد الشرع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں انتخابات کے انعقاد میں پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس امر کا اظہار شام کے ایک نجی ٹی وی پر اپنے انٹرویو میں کیا ہے۔ یہ پہلے سے ریکارڈ کیا گیا انٹرویو پیر کے روز سامنے آیا ہے۔

احمد الشرع تقریباً ایک ہفتہ پہلے شام کی صدارتی منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ انہوں نے ھیتہ التحریر الشام کے سربراہ کے طور پر آٹھ دسمبر کو بشارالاسد کا تختہ الٹ پر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں احمد الشرع نے کہا ' میرے اندازے کے مطابق نئے انتخابات کے انعقاد کے لیے شام میں چار سے پانچ سال کا وقت لگے گا۔' اس سے قبل دسمبر کے اواخر میں انہوں نے انتخابی عمل ممکن بنانے کے لیے' العربیہ ' کو چار سال کی درکار مدت بتائی تھی۔

شامی صدر نے پیر کے روز کہا ' ووٹ ڈالنے تک کے سارے عمل اور اس کے لیے انتخابی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے وقت چاہیے ہو گا۔'

احمد الشرع نے انتخابی عمل تک پہنچنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو ' ریگولیٹ' کرنے کے لیے قانون کی ضرورت کی طرف بھی متوجہ کیا اور کہا 'شام ایک جمہوریہ کے طور پر کام کرے گا ،جس میں ایک مقننہ اور ایک انتظامیہ ہو گی۔'

شامی فوج کے کمانڈروں نے 29 جنوری کو بدھ کے روز احمد الشرع کو ملک کا نیا صدر مقرر کیا ہے۔ ان کے صدر بننے کا علاقے میں خیر مقدم کیا گیا ہے۔ شام میں نئی عبوری حکومت کا قیام یکم مارچ تک متوقع ہے۔

یاد رہے امریکی حمایت یافتہ جنگجو گروپ ' سیریئن ڈیمو کریٹک فورس ' نے ہتھیار چھوڑنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے تاہم اس سلسلے میں ابھی کئی امور پر اختلاف ہے اور کئی نکات طے ہونا باقی ہیں۔ اتفاق ہو جانے سے امکان ہو گا کہ شام 13 برسوں کی خانہ جنگی اور طوائف الملوکی کے بعد ایک منظم حکمرانی اور پر امن معاشرے کی طرف بڑھ سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں