ٹرمپ کی طرف سے غزہ میں امریکی فوج اتارنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 12 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ساڑھے 15 ماہ کی غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران بمباری سے بےگھر ہوجانے والے فلسطینیوں کے بارے میں کہا ہے 'بےگھر فلسطینیوں کو غزہ سے باہر مستقل بنیادوں پر کسی دوسری جگہ منتقل کر دینا چاہیے۔'

انہوں نے کہا کہ 'اس صورت میں امریکہ غزہ کی ساحلی پٹی میں تعمیر نو اور از سر نو ترقیاتی منصبوں کی 'اونرشپ' قبول کر لے گا۔'

امریکی صدر ٹرمپ کی ڈھٹائی پر مبنی تجویز جنگ بندی کے لیے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہے۔ جس کے تحت باقی ماندہ اسرائیلی قیدیوں اور ان کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملنی ہے۔

امریکی صدر کا یہ اشتعال انگیز بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کے لوگ تقریباً ساڑھے 15 سے زیادہ عرصے پرمحیط تباہ کن جنگ کے بعد عالمی برادری سے انسانی بنیادوں پر امداد اورتعمیر نو کے لیے کوششوں کی توقع کر رہے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ غزہ میں بےگھر ہونے والے تمام لوگوں کو غزہ سے نکال کر کسی اور جگہ منتقل کر دیا جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں 18 لاکھ افراد کی تعداد کا بھی ایک لفظ استعمال کیا ہے کہ وہ انہیں غزہ سے دوسری جگہ بھجوانا چاہتے ہیں۔ جسے انہوں نے گھر کہا ہے۔

امریکی صدر نے یہ تاثر بھی دیا ہے کہ امریکہ کی فوج بھی اس مقصد کے لیے غزہ میں تعمیر نو کے لیے اتاری جا سکتی ہے۔ بقول ٹرمپ کے امریکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے اور ہم اس کے ساتھ غزہ کی ترقی و تعمیر کا کام بھی کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات گزشتہ رات وائٹ ہاؤس میں کہی ہے۔

ٹرمپ جنہوں نے نیویارک کے ایک بڑے ڈویلپر کی شہرت سے اپنے آپ کو نمایاں کیا ہے اب امریکہ کے دوسری بار صدر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہم غزہ میں عالمی معیار کا کام کریں۔ جس سے لوگ حیران ہو جائیں اور اس دوران فلسطینیوں کو کسی اور جگہ منتقل کر دیا جائے اور غزہ کو ایسی جگہ بنا دیا جائے جہاں دوسروں کی طرح فلسطینی بھی رہ سکیں۔'

تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں کہ امریکہ کس اختیار کے تحت غزہ کی سرزمین کو اپنے کنٹرول میں لے گا اور اسے ڈویلپ کرے گا۔

اتحادیوں نے ٹرمپ منصوبہ مسترد کر دیا

امریکہ کے دیرینہ اتحادیوں جن میں اردن اور مصر بھی شامل ہیں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے جبری طور پر نکال کر مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے خطرہ پیدا کریں گے۔ یہ خطرہ تصادم تک پھیل سکتا ہے اور امریکی اتحادیوں کو دو ریاستی حل کی کئی دہائیوں سے جاری رکھی گئی حمایت سے دور کر دے گا۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی اس پر واضح اور دوٹوک لفظوں میں ردعمل جاری کیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے مقابلے کے لیے ان کا ایک مضبوط، مستحکم اور اٹل مؤقف ہے۔

واضح رہے سعودی عرب بعض شرائط کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے معاہدے پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔ لیکن اس معاملے میں سعودی عرب ٹرمپ کے ساتھ نہیں ہے۔

مملکت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے'عالمی برادری کا آج یہ فرض ہے کہ وہ فلسطینیوں کے مصائب کے خاتمے کے لیے کام کرے۔ فلسطینی اپنی سرزمین پر رہیں اور اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔'

تاہم ٹرمپ کا اصرار ہے کہ فلسطینیوں کے پاس ملبے کے ڈھیر بن چکے غزہ سے نکل جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ٹرمپ نے یہ بات اس وقت کہی ہے جب ان کے معاونین یہ بات کر رہے ہیں کہ جنگ زدہ علاقے کی تعمیر نو میں 3 سے 5 سال لگ سکتے ہیں۔ جبکہ عارضی جنگ بندی معاہدہ پائیدار نہیں لگ رہا۔

پچھلے ہفتے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر دوسری جگہ آباد کرنے کے منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینیوں کو غزہ میں ہی آباد کیا جائے۔

تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ مصر اور اردن کے علاوہ دیگر ملک بھی بالآخر فلسطینیوں کو غزہ سے باہر نکال دینے پر اتفاق کر لیں گے۔

ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ' آپ پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں موت ہی موت ہے اور یہ کئی برسوں سے ہو رہا ہے، صرف موت۔ اگر ہم ایک ایسا خوبصورت علاقہ بنا سکتے ہیں جہاں لوگوں کو مستقل طور پر اچھے گھر بنا کر دیے جائیں اور وہ وہاں خوش رہ سکیں۔ جہاں انہیں گولی کا نشانہ بننے کا خوف نہ ہو، نہ مارے جانے کا اور نہ ہی چاقو گھونپے جانے کا کہ وہ اس سے مر جائیں۔ جیسا کہ غز ہ میں ہو رہا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ '

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس امر کو بھی مسترد نہیں کرتے کہ غزہ میں تعمیر نو کے کاموں کے لیے امریکہ اپنی فوج کو تعینات کر دے۔ وہ اس تعیناتی کو طویل مدتی تصور کرتے ہیں۔

امریکی 'اونرشپ' میں علاقے کی از سر نو ترقی

امریکی صدر کے اس منصوبے کو ڈیموکریٹس کی طرف سے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ ریپیبلیکنز کے اتحادیوں کی طرف سے شکوک و شبہات کے ساتھ خیرمقدم کیا گیا ہے۔

سینیٹر کرس مرفی کا کہنا ہے کہ 'صدر ٹرمپ چاہتے ہیں امریکہ غزہ پر چڑھائی کر دے۔ جس کی ہزاروں امریکی زندگیوں کی ہلاکت کی صورت میں قیمت ادا کرنا پڑے گی اور مشرق وسطیٰ میں اگلے 20 سال کے لیے آگ لگی رہے گی۔ ٹرمپ ذہنی طور پر بیمار ہے۔'

لنڈسے دراہم ساؤتھ کیلورینا سے ریپیبلیکنز سینیٹر ہیں اور ٹرمپ کے اتحادی ہیں نے کہا 'ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے عرب دوست اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں اور میں کم از کم جنوبی کیلورینا کے لوگوں کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں کہ شاید وہ اس کے لیے پرجوش نہیں ہیں کہ امریکیوں کو غزہ کا نظام سنبھالنے کے لیے بھیجا جائے۔ میرے خیال میں یہ مسائل کا مؤجب بنے گا۔ لیکن میں اپنے ذہن کو کھلا رکھنا چاہتا ہوں۔'

ایک کمزور جنگ بندی

وائٹ ہاؤس غزہ کے مستقبل کو ایسے دیکھتا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی میں ایک توازن رہے۔ جبکہ نیتن یاہو کو اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں سے سخت دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اس عارضی جنگ بندی کو جلدی ختم کریں اور حماس کے خلاف دوبارہ سے جنگ شروع کریں۔ جبکہ یرغمالیوں کی رہائی کو مکمل کرنے والے اسرائیلی چاہتے ہیں کہ 15 ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ کو ختم کیا جائے۔

ٹرمپ کو اس بات پر یقین ہے کہ مصر اور اردن جن کی امریکہ بہت نمایاں انداز سے مدد کرتا رہا ہے، وہ غزہ سے فلسطینیوں کے نکالے جانے کو مان لیں گے۔

ادھر اسرائیل میں نیتن یاہو کے کٹر اور انتہائی دائیں بازو کے اتحادی اس پر خوش ہیں کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکال پھینکا جائے گا۔

سٹیو وٹکوف نے کہا 'میرے نزدیک یہ غیرمناسب ہوگا کہ یہ تشریح کی جائے کہ فلسطینی غزہ سے نکالے جانے کے 5 سال بعد واپس آسکیں گے۔ صدر ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ پچھلے کئی دہائیوں سے جاری تنازعے کے وسیع تر دو ریاستی حل کے سلسلے میں ایک آزاد فلسطینی ریاست پر ایک بار پھر غور کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'یہ درست ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے منصبوے تبدیل ہو سکتے ہیں۔' تاہم انہوں نے کہا وہ ابھی اس منصوبے کے لیے پرعزم ہیں جو انہوں نے 2020 میں پیش کیا تھا جس میں فلسطین کی ریاست کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا 'میرے جانے کے بعد اور اب واپس آنے کے بعد بہت سے لوگ مارے جا چکے ہیں۔'

ٹرمپ نے کہا اس وقت نیتن یاہو کی صورت میں اسرائیل کے پاس ایک صحیح لیڈ ر موجود ہے۔ نیتن یاہو نے بھی اسرائیلی قیدیوں کے غزہ سے رہا ہو کر گھر جانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کی تعریف کی کہ ان کی وجہ سے جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔

انہوں نے ٹرمپ کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ 'آؤٹ آف باکس' سوچنے والے لیڈر ہیں۔ آپ وہ باتیں کرتے ہیں جو دوسرے نہیں کر سکتے بلکہ انکار کر دیتے ہیں اور آپ جب بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ تم جانتے ہو وہ ٹھیک کہتا ہے۔'

حماس نے ٹرمپ کے اس منصبوے پر اپنے تبصرے میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ غزہ کے مکینوں کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ غزہ کو چھوڑ جائیں۔ کیونکہ ہم انہیں خطے میں افراتفری اور کشدیگی کا باعث سمجھتے ہیں۔

ادھر نیتن یاہو نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں مشیر قومی سلامتی مائیک وارٹز اور سٹیو وٹکوف سے ملاقات کی اور جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے کہا کہ اسرائیل اپنے نمائندہ وفد کو مذاکرات کے لیے قطر بھیجے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی جنگی کابینہ کا اجلاس بلائیں گے۔ تاکہ اگلے مرحلے کے لیے اسرائیلی مطالبات کی ترتیب ممکن ہو۔ وہ جنگی کابینہ کا یہ اجلاس امریکہ سے اسرائیل واپسی کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔

دریں اثناء وٹکوف نے کہا ہے کہ وہ قطری وزیراعظم سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ملاقات امکانی طور پر جمعرات کو ہوگی۔ تاکہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر بات چیت ہو سکے۔ خیال رہے قطر اور مصر اس جنگ بندی میں ثالثی کے لیے مسلسل اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں کی طرف سے مسلسل دباؤ میں ہیں کہ جنگ بندی ختم کریں اور دوبارہ سے غزہ میں جنگ شروع کریں۔ تاکہ حماس کا خاتمہ ہو سکے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ سموٹریچ نیتن یاہو کے انتہائی اہم اتحادیوں میں سے ہیں۔ مگر ان کا انتباہ ہے کہ وہ نیتن یاہو کی حکومت کو جنگ دوبارہ شروع نہ کرنے کی صورت میں گرا سکتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں نیتن یاہو کو نئے الیکشن کی طرف جانا پڑے گا۔

دوسری جانب حماس نے جنگ بندی کے بعد سے غزہ پر اپنا کنٹرول پھر مستحکم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ دوسرے مرحلے میں اگر جنگ بندی کو مستقل نہ کر دیا گیا تو باقی ماندہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی نہیں کی جائے گی۔

خیال رہے ساڑھے 15 ماہ کی جنگ کے باوجود یہ اسرائیلی قیدی غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک حماس کی قید میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں