ایران کا اولین ڈرون بردار طیارہ پاسدارانِ انقلاب کے بیڑے میں شامل

سمندر میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعرات کو اطلاع دی کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ملک کا اولین بحری جہاز اپنے بیڑے میں شامل کیا ہے جو سمندر میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جیسا کہ تہران کو اسرائیل اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے ساتھ مزید مخاصمت درپیش ہو سکتی ہے تو اسی کے پیشِ نظر جنوری کے اوائل سے مارچ کے اوائل تک جاری رہنے والی فوجی مشقوں کے درمیان ایران کی مسلح افواج نے نئے ہتھیاروں کی نقاب کشائی کی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری نے کہا، "پاسدارانِ انقلاب نے ایک تجارتی جہاز کو ایک موبائل بحری پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کے لیے کارروائی کی جو سمندر میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر کا مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔"

خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کہا کہ سابقہ کنٹینر جہاز شاہد بہشتی 180 میٹر (590 فٹ) رن وے سے آراستہ ہے اور ایک سال تک ایندھن کی دوبارہ ضرورت کے بغیر کام کر سکتا ہے۔

یہ جہاز آئی آر جی سی کے سابقہ جنگی جہازوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ قاہر اور مہاجر چھے جیسے بڑے ڈرون کو لانچ اور بازیافت کر سکتا ہے۔

تنگسیری نے مزید کہا، "ہمارے بحری بیڑے میں اس جہاز کا اضافہ دور دراز کے پانیوں میں ایران کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور ہمارے قومی سلامتی کے مفادات کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں