العربیہ ایکسکلوسیو

سعودی عرب فلسطین میں نسلی تطہیر کے خلاف عالمی موقف کی قیادت کرے گا : ترکی الفیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب نے باور کرایا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے مملکت کا موقف اٹل، ثابت قدم اور غیر متزلزل ہے۔ سعودی عرب نے زور دیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ممکن نہیں۔

ادھر کنگ فیصل سینٹر فار اسٹڈیز کے چیئرمین شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں سخت گیر اسرائیلی موقف اپنایا اور مذاکرات کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ الفیصل نے زور دے کر کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے سعودی موقف تاریخی طور پر ثابت قدمی پر مبنی رہا ہے۔

العربیہ نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے تمام اقدامات اور طریقوں میں دانش مندانہ پالیسی پر کاربند رہتا ہے۔ الفیصل کا کہنا تھا "میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین میں نسلی تطہیر کے سامنے ڈٹ جانے کے لیے سعودی عرب کے زیر قیادت ایک عالمی اجتماع کی ضرورت ہے۔ ہم یہ نہ بھولیں کہ یہ تطہیر صرف غزہ میں نہیں بلکہ مغربی کنارے میں بھی ہو گی۔ لہذا اقوام متحدہ کی سطح پر رد عمل سامنے آنا چاہیے تا کہ اس حوالے سے امریکی موقف سے اختلاف کا بھرپور اظہار ہو۔ جبری ہجرت کا متبادل غزہ کے لوگوں کی حیفا اور یافا وغیرہ واپسی کی صورت میں سامنے آنا چاہیے"۔

شہزادہ ترکی الفیصل کے مطابق جب سے سعودی عرب کا قیام عمل میں آیا اسے بہت سے شعبوں میں جھوٹے الزامات کا سامنا رہا ہے، نہ صرف فلسطین کے معاملے میں بلکہ ترقی، معیشت اور اس کی دیگر پالیسیوں کے حوالے سے بھی ، البتہ ہم اس چیز کی پروا نہیں کرتے، سعودی قافلہ رواں دواں ہے اور کتے بھونک رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے تنازع کھڑا کر دیا ہے جس میں انھوں نے اعلان کیا کہ فلسطینیوں کی دیگر جگہوں پر آباد کاری کے بعد امریکا تباہ حال غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں