کل ہفتے کے روز سے اسرائیلی افواج نے ’نیٹزاریم‘ کے محور سے انخلاء شروع کیا۔ یہ کوریڈور غزہ کی پٹی کے شمال کو اس کے جنوب سے الگ کرتا ہے۔
العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے تصدیق کی کہ تمام اسرائیلی فوجی آج اتوار کو راہداری سے پیچھے ہٹ گئے۔
اس سے اس انخلا کا مطلب اور اس کے نتائج کے بارے میں کئی سوالات پیدا ہوئے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا فلاڈیلفیا محورجسے صلاح الدین محور بھی کہا جاتا ہے انخلا کی کوئی تاریخ ہے؟
غزہ کی تقسیم
اس تناظر میں عسکری اور تزویراتی ماہر اور مصر کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے مشیر حرب اسامہ محمود کبیر نے کہا، "نیٹزاریم کے محور سے اسرائیلی افواج کا انخلا 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی اہم شرائط میں سے ایک ہے"۔
انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ اس معاملے کو "اسرائیلی فوج کے لیے ایک فوجی نقصان قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ کوریڈور پر قبضہ کرنے کا پوشیدہ اور اعلیٰ ترین اسٹریٹجک ہدف ہے۔ اس جگہ پر حماس اوراسرائیل کےدرمیان جنگ بندی مذاکرات میں ہونےوالی بحث کے دوران پوری دنیا میں بہت زیادہ شہرت حاصل کی تھی۔
اسرائیل کا دعویٰ رہا ہے کہ نیٹزاریم پر قبضہ برقرار رکھنا حماس کو جنگجوؤں اور اسلحے کی شمال اور جنوبی غزہ کی پٹی میں آمد ورفت کو روکنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اس کے بعد اسرائیلی فوج نے جون 2024 ءکے آخر تک غزہ کے جنوب میں واقع فلاڈیلفیا کوریڈور پر قبضہ مکمل کر لیا۔" انہوں نے مزید کہاکہ اکتوبر 2024ء میں اسرائیلی فوج نے ایک اور محور قائم کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل نے نیٹزاریم کے جنوب میں "تزفالیم" محور پر کام شروع کیا۔ ان کا مقصد غزہ کو چھوٹی چھاؤنیوں میں تقسیم کرنا تاکہ نقل مکانی کے منصوبے پر عمل درآمد میں آسانی ہو‘۔
ٹرمپ کے بیانات
اُنہوں نے وضاحت کی کہ "یہ وہی پلان ہے جسے بعد میں 'جنرنیلوں کے پلان' کے نام سے جانا گیا۔ اسرائیلی میڈیا نے اس کا حوالہ ستمبر 2024 میں دیا تھا۔ اس کی تصدیق حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے ہوئی تھی، جس میں انہوں نے غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
مصری دانشور نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات نے "مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کو اہلا کر رکھ دیا۔ مصر اور اردن نے پوری سختی اور شدت کے ساتھ ان کا جواب دیا۔ بہت سے ممالک نے مصر اور اردن کے موقف کی تائید کی۔ عالمی ردعمل کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ " اب غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے لیے جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے"۔ تاہم انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو گرین سگنکل دیتے ہوئے کہا کہ " اگر حماس کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کرتی ہے تو آپ کو جو بھی مناسب لگتا ہے وہ کریں"۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نیٹزاریم کے محور کو خالی کرنا ایک "سیاسی چال سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سے دستبرداری عارضی ہے۔ اگر جنگ بندی ٹوٹ جاتی ہے تو نیتن یاہو جلد ہی اس پر دوبارہ قبضہ کر لیں گے۔ یہ توقع کی جاتی ہے کہ غزہ کے اہم تزویراتی مقام سے اسرائیلی فوج کا انخلا اسرائیل میں دائیں بازو کی حکومت اپنی برداشت سے زیادہ کھو دے گی‘‘۔
اب یہ فیصلہ کرنا ممکن نہیں کہ اسرائیل فلاڈیلفی کوریڈور سے دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں! انہوں نے وضاحت کی کہ "یہ معاملہ جنگ بندی کے تین مراحل پر عمل درآمد کی کامیابی پر بھی منحصر ہے، جس کے نتیجے میں غزہ کے مسئلے کو کنٹرول کیا جائے گا اور جنگ کے بعد غزہ کی حکمرانی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
معاہدے کی تفصیلات
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی شدید جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ ہوا تھا اور اس میں دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی تھی۔
اس میں شمال کی طرف بفر زون کے قیام کے ساتھ پورے تباہ شدہ علاقے سے بتدریج اسرائیلی انخلاء بھی شامل تھا۔
جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کی بھی شرط رکھی گئی تھی.
-
جنگ بندی کے بعد غزہ میں 3380 ٹرک داخل، ہم نے 800 زخمیوں کا علاج کیا: گورنر شمالی سینا
مصر نے جنگ بندی کے بعد فلسطینی علاقوں میں جانیوالی کل انسانی امداد کا 80 فیصد سے ...
مشرق وسطی -
غزہ پر ٹرمپ کی تجویز نئی ہے، مصر پٹی کو جیل میں تبدیل پر تلا ہوا ہے: نیتن یاھو
گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی پر قبضے اور وہاں کے لوگوں کو بے گھر ...
مشرق وسطی -
غزہ کی تعمیر کے لیے صرف تین سال درکار ہیں: مصری ڈیویلپر کا دعویٰ
غزہ جنگ کی وجہ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد تعمیر نو کا عمل، اس کی لاگت ...
مشرق وسطی