اسرائیلی میڈیا نے منگل کے روز حماس کے زیر حراست سب سے معمر اسرائیلی قیدی 86 سالہ شلومو منتسور کی موت کی تصدیق کی ہے۔
عبرانی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے ایک خبر میں کہا ہےکہ "بھاری دلوں کے ساتھ ہمیں آج صبح حماس کے زیر حراست اپنے عزیز دوست شلومو منتسور کے قتل کی خبر ملی۔ یہ ہمارے کبوتز کی تاریخ کے مشکل ترین دنوں میں سے ایک ہے"۔
اخبار نے مزید کہا کہ منتسور کو 7 اکتوبر 2023 کو قتل کیا گیا تھا اور اس کی لاش کو پٹی میں رکھا گیا تھا۔
اسرائیل ہیوم اخبار نے لکھا کہ اسرائیلی فوج نے آج منتسور کے اہل خانہ کو اس کی موت کی اطلاع دی۔ دریں اثنا غزہ میں حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے اسرائیلی زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے آج منگل کو یروشلم جانے والی ہائی وے نمبر 1 کو بند کر دیا۔
اسرائیلی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے مغوی کی فوری رہائی کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا جب حکومت جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد اور زیر حراست افراد کے معاہدے پر بات چیت کے لیے ملاقات کرنے والی ہے۔
یہ بات حماس کے ترجمان کی جانب سے پیر کے روز اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ تحریک اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگانے کے بعد قیدیوں کی آئندہ رہائی کو ملتوی کر دے گی۔
حماس کے عسکری ونگ بریگیڈز کے فوجی ترجمان ابو عبیدہ نے ایک پریس بیان میں کہا کہ "مزاحمتی قیادت نے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران دشمن کی جانب سے جنگ بندی معاہدےکی خلاف ورزیوں اور معاہدے کی شرائط کی پاسداری میں ناکامی پر نظر رکھی ہے۔ شمالی غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والوں کی واپسی میں تاخیر کی گئی اور واپس آنے والوں پر فائرنگ کی گئی‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "مزاحمت نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں جب کہ قابض اسرائیل نے ایسا نہیں کیا ہے۔ قیدیوں کی رہائی کا عمل
نئے اعلان تک روک دیا گیا ہے‘۔