" حماس پر جہنم کے دروازے کھولنے کی دھمکی"، قیدیوں سے متعلق سخت بیان سے یاہو بھی حیران

ٹرمپ اب غزہ پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مقابلے میں دو بار زیادہ سخت موقف کا اظہار کرچکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکی ’ایکسیس‘ نیوز ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس ہفتے حماس کے لیے اعلانیہ الٹی میٹم اور غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے ان کے شاندار منصوبے نے اسرائیلی حکومت کو ایک جنون اور الجھن میں ڈال دیا ہے۔

ٹرمپ نے جنگ بندی کے خاص طور پر حساس مرحلے پر خود سخت گیر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مقابلے میں غزہ کے بارے میں دو بار زیادہ سخت عوامی موقف اختیار کیا ہے۔

مختصر مدت میں اس نے نیتن یاہو کے فیصلہ سازی کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہاکہ نیتن یاہو کے لیے غزہ سے متعلق مسائل پر ٹرمپ سے زیادہ لچک دار ہونا مشکل ہے۔

اہلکار نے منگل کو میراتھن سیکورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد کہا کہ طویل مدت میں نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کو یقین ہونے لگا کہ ٹرمپ ان کی مدد کریں گے جو وہ چاہتے ہیں۔

سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ بی بی نیتن یاھو اور حکومتی وزراء کو ٹرمپ سے بہت امیدیں ہیں۔

ٹرمپ کی تقریر نے خاص طور پر نیتن یاہو کی حکومت کے مزید انتہا پسند ارکان کی حوصلہ افزائی کی ہے، جن میں سے کچھ اب اس بات پر قائل ہو گئے ہیں کہ انہیں اب غزہ سے دستبرداری یا حماس کے ساتھ مزید مذاکرات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کمرے میں خوشی کا احساس تھا، جیسے غزہ میں ہمارے تمام مسائل اب حل ہو گئے ہیں کیونکہ ٹرمپ نے کچھ کہا تھا وہ اسرائیلیوں کے لیے بہت بڑی ہمت اور مدد کی علامت تھی"۔

کچھ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ جوش و خروش غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔ شاید اس ہفتے کے آخر میں حماس کی قید میں ایک امریکی سمیت نو قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے گا جنہیں اگلے تین ہفتوں میں رہا کیا جانا تھا۔

اگر جنگ بندی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو تقریباً بیس دیگر قیدیوں کو دوسرے مرحلے میں رہا کیا جانا ہے۔ نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے اوول آفس میں ٹرمپ کو بتایا تھا کہ وہ دوسرے مرحلے پر سنجیدہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جس پر ابھی بات چیت کی ضرورت ہے۔

لیکن جب ٹرمپ نے ہفتے کے روز رہائی پانے والے تینوں قیدیوں کی سنگین جسمانی حالت دیکھی تو اس نے معاہدے کے مرحلہ وار ڈھانچے کے ساتھ صبر کھونا شروع کر دیا۔ پھر پیر کے روز حماس نے کہا کہ اس نے جنگ بندی کی مبینہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ہفتے کے روز یرغمالیوں کی اگلی رہائی کو معطل کر دیا ہے۔

اس کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے اپنے ہی عوامی الٹی میٹم کے ساتھ جواب دیا ۔ اسرائیلی حکومت کو دائیں طرف سے نظرانداز کرتے ہوئے اور بڑی محنت کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ" اب کوئی چال نہیں چلے گی، تین اور دو نہیں سبھی قیدی رہا کرنا ہوں گے"۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اگر تمام 76 باقی قیدیوں کو ہفتے کی دوپہر تک رہا نہ کیا گیا تو جنگ بندی ختم ہو جائے گی اور حماس پر جھنم ٹوٹ پڑے گا"۔

اسرائیلی سکیورٹی سربراہوں کے ساتھ مشاورت کے دوران منگل کو چار گھنٹے کی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس نیتن یاہو نے ٹرمپ کے انداز اور لہجے کو زبردست، مثالی اور باعث فخر قرار دیا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان کے بعد نیتن یاھو نے کہا کہ اسرائیل کو حماس کو تباہ کرنے اور غزہ میں جو چاہے کرنے کے لیے مکمل امریکی حمایت حاصل ہو گی۔ اس نے کہا کہ بہت سے وزراء کی پوزیشن یہ تھی کہ اسرائیل کو ٹرمپ کے الٹی میٹم کو اپنی نئی پالیسی کے طور پر پوری طرح قبول کرنا چاہئے اور قیدیوں کے معاہدے کے موجودہ فریم ورک کو ترک کردینا چاہیئے۔

دو اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کے سربراہان بشمول داخلی سلامتی کے ادارے کے سربراہ رونن بار نے وزراء سے اپیل کی کہ وہ صورت حال کو مزید خراب نہ کریں اور قطری اور مصری ثالثوں کو ایسا حل تلاش کرنے کا موقع دیں جس سے ہفتے کے روز تینوں زیر حراست افراد کی رہائی محفوظ ہو جائے۔

نیتن یاہو نے ٹرمپ کے الٹی میٹم سے ہٹ کر ایک مبہم درمیانی راستہ اپنایا لیکن یہ اعلان کیا کہ اگر اس کے یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا گیا تو اسرائیل ہفتے کے روز جنگ دوبارہ شروع کر دے گا، تاہم انہوں نے قیدیوں کی تعداد کے بارے میں بات نہیں کی۔

ایک موقع پر "اسرائیلی اہلکار" نے کہا کہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے باقی نو قیدیوں کو ہفتے کے روز رہا کیا جانا چاہیے۔ بعد میں اہلکار نے ٹرمپ کے موقف کو تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ "ان سب کو ہفتے کے روز رہا ہونا چاہیے"۔ ان الجھے بیانات سے لگتاہے کہ ٹرمپ کے بیانات کے بعد خود اسرائیلی حکومت بھی الجھن کا شکار ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کے پاس جنگ بندی کو جاری رکھنے کے لیے کافی گنجائش ہے۔ اسرائیل نے مصر اور قطر پر واضح کیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حماس معاہدے کی پاسداری کرے۔

ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ "ہفتے کو قیدیوں کی رہائی کا امکان نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔ یہ بہت تشویشناک ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ثالث صورتحال کو سمجھیں گے اور معاہدے کو بچائیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں