بیروت ہوائی اڈے کے نزدیک ہنگامہ آرائی ، فوجی کا حزب اللہ کے کارکن کو تھپڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کے دار الحکومت بیروت میں رفیق حریری بین الاقوامی ہوای اڈے کے نزدیک جھگڑے اور افراتفری کے مناظر کے وڈیو کلپ سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل لبنانی حکام نے جمعرات کے روز ایک ایرانی طیارے کو مذکورہ ہوائی اڈے پر اترنے سے روک دیا تھا۔

ایک وڈیو کلپ میں دیکھا گیا کہ لبنانی فوج جھگڑے کے دوران حزب اللہ کے ایک رکن کو تھپڑ مار رہا ہے۔ حزب اللہ کے عناصر ایرانی طیارے کو اترنے کی اجازت نہ ملنے پر بیروت کے ہوائی اڈے کے قریب ہنگامہ آرائی کر رہے تھے۔ اسی طرح وڈیو کلپ میں لبنانی فوج کو حزب اللہ کے عناصر منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ عناصر ہنگامہ آرائی اور بلوے کے ذریعے ہوائی اڈے جانے والے راستے کو بند کر رہے تھے۔

ہوائی اڈے جانے والے راستے کو کھولنے کی کارروائی کے دوران میں لبنانی فوج کی حزب اللہ کے عناصر کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی۔

احتجاجیوں نے ہوائی اڈے کے راستے کی بندش کر دی تھی کیوں کہ ایرانی طیارے پر لبنانی مسافر سوار تھے۔ العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق مشتعل افراد نے ٹائروں میں آگ لگا کر بیروت ہوائی اڈے جانے والے راستے کو بند کر دیا۔

اس سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے ایرانی پاسداران انقلاب کی 'القدس فورس' اور لبنانی تنظیم 'حزب اللہ' پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ شہری پروازوں کے ذریعے مالی رقوم اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے بیروت ہوائی اڈے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کے لیے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی کوشش کیا جا رہی ہیں ، اسرائیل اس کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2024 سے بیروت ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت اور ہوائی اڈے کے اندر تفتیش اور تلاشی کی تمام کارروائیوں کی نگرانی کی ذمے داری لبنانی فوج کو سونپ دی گئی ہے۔

حزب اللہ کے مخالف کئی لبنانی سیاست دان کئی بار تنظیم پر یہ الزام عائد کر چکے تھے کہ اس نے اس اہم تنصیب (بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے) اور ملک میں دیگر گزر گاہوں پر کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے۔ اس کا مقصد ایران سے ہتھیاروں کے علاوہ مالی رقوم کی اسمگلنگ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں