ریاض میں نیٹ ورکنگ ایونٹ کا انعقاد: مملکت میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی کوشش
تارکینِ وطن کا پاکستان کی نئی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے عزم کا اظہار
سعودی عرب میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن نے پاکستانی ٹیک کمپنیوں کے لیے ریاض میں ایک نیٹ ورکنگ ایونٹ کی میزبانی کی جنہوں نے حال ہی میں ختم ہونے والی لیپ (ایل ای اے پی) 2025 ٹیک کانفرنس میں شرکت کی۔ تقریب کے منتظمین نے جمعہ کو کہا کہ اس کا مقصد مملکت میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو فروغ دینا تھا۔
سعودی عرب کے ایوارڈ یافتہ عالمی ٹیکنالوجی ایونٹ کے طور پر تسلیم شدہ لیپ کانفرنس کے چوتھے ایڈیشن کا آغاز نو فروری کو ہوا اور یہ 12 فروری تک جاری رہے گا جس کے لیے دنیا کے طول و عرض سے کاروباری افراد، سرمایہ کار اور سٹارٹ اپس اپنی اختراعی مصنوعات اور ٹیک سلوشنز پیش کرنے کے لیے ریاض میں جمع ہوئے۔
اس سال پاکستان کے پاس لیپ میں شرکت کرنے والا اب تک کا ایک سب سے بڑے وفد تھا جس میں 100 سے زائد ٹیک کمپنیاں اور 1000 سے زائد مندوبین نے چار روزہ ایونٹ میں شرکت کی۔ اس سے پاکستانی فرمز کو آئی ٹی کے متعلقہ اداروں سے تعاون، کاروباری مواقع کی تلاش اور پاکستان کی متنوع آئی ٹی برآمدات کی نمائش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم میسر آیا۔ ان آئی ٹی برآمدات میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، بلاک چین، فِن ٹیک، گیمنگ اور روبوٹکس شامل ہیں۔
جمعہ کے روز سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے ایک پیشہ ورانہ فورم مجلسِ پاکستان نے کہا کہ اس نے ان پاکستانی آئی ٹی فرمز اور پیشہ ور افراد کو مملکت میں کاروبار کی ترقی، ٹیلنٹ کی ضرورت، تعاون اور مشترکہ منصوبوں میں مدد کے لیے نیٹ ورکنگ ایونٹ کی میزبانی کی۔
مجلسِ پاکستان کے سرپرستِ اعلیٰ ثاقب زبیر نے ایک بیان میں کہا، "سعودیہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں، تاجروں اور پیشہ ور افراد نے مملکت کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں داخل ہونے والی نئی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے کا عزم کیا۔ پاکستانی کاروباری افراد بھی اپنے سعودی شراکت داروں کے ساتھ پاکستانی کمپنیوں اور سٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں تاکہ مملکت میں پاکستانی کمپنیوں کی موجودگی میں اضافہ کر سکیں۔"
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے دسمبر 2024 میں 348 ملین ڈالر کی سب سے زیادہ ماہانہ آئی ٹی برآمدات ریکارڈ کیں جو سال بہ سال 15 فیصد اور ماہ بہ ماہ 12 فیصد زیادہ ہیں۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پی اے ایف ایل اے) کے صدر طفیل احمد خان نے کہا، پاکستان کے آئی ٹی کے کاروباری افراد اور کمپنیاں اپنے تجربات اور نیٹ ورکنگ کی بنا پر سعودی مارکیٹ میں آنے والے پاکستانی سرمایہ کاروں کو عملی بصیرت فراہم کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "غیر ملکی پاکستانی میزبان ملک کی پالیسیوں اور حکام سے بخوبی واقف ہیں جو نئے آنے والوں کے آباد ہونے اور ترقی کے لیے اپنانا بہت ضروری ہیں۔"
ہیگزالائز آئی ٹی کنسلٹنسی فرم کے سی ای او سعد شاہ نے کہا، پاکستان کی پیشہ ور کمیونٹی پاکستانی آئی ٹی اور ٹیک کمپنیوں کو سعودی عرب میں آپریشنز اور کاروبار کی ترقی کے لیے تزویری اہمیت کی حامل شراکت داری فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی، "پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں سعودی عرب میں مقیم آئی ٹی پروفیشنلز کو بطور کنسلٹنٹ اور ملازمین رکھ سکتی ہیں تاکہ پاکستان سے عملے کی منتقلی کا مہنگا آپشن جاری رکھنے کے بجائے میزبان ملک میں اپنے کاروبار کو بڑھا سکیں۔"
-
میونخ میں گاڑی سے کچلنے کا واقعہ ، سعودی عرب کی جانب سے مذمت
سعودی وزارت خارجہ نے مملکت کی جانب سے جرمنی کے شہر میونخ میں گاڑی سے کچلنے کے ...
ایڈیٹر کی پسند -
پاکستان: جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی سعودی مشقوں میں زبردست پرفارمنس
پاکستانی ساختہ جیٹ طیاروں جے ایف 17 تھنڈر نے سعودی عرب کی منعقد کردہ مشقوں میں ...
پاكستان -
سعودی عرب جانے والے مسافروں کیلئے پولیو سرٹیفکیٹ لازمی قرار
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے سعودی عرب جانے والے مسافروں کے لیے ...
پاكستان