اسرائیلی فوج نے اپنے پانچ ریزرو فوجیوں کے خلاف جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ شروع کیا ہے جن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے فلسطینی قیدیوں پر بہیمانہ تشدد کیا تھا۔
جنگی جرائم کے حوالے سے اسرائیل کو غزہ میں جنگ کے باعث پہلے ہی شدید تنقید کا سامنا ہے ۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو اور یواو گیلنٹ کے انہی جنگی جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر رکھے ہیں۔
تاہم مبصرین کے مطابق اسرائیلی فوج جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا تاثر دور کرنے کے لیے اب علامتی اقدامات کے طور پر اس طرح کے مقدمات اپنے فوجیوں پر چلانے کا ماحول بنا رہی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر نے پانچ ریزرو فوجیوں کے خلاف فرد جرم عاید کی ہے۔ جن پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو قید کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعات اس الزام کے مطابق تیمان جیل میں پیش آتے رہے۔ جہاں فلسطینیوں کو رکھا گیا تھا۔
اسرائیلی فوجیوں نے ان پر ایسا صیہونی انداز کا تشدد کیا کہ کئی فلسطینیوں کی پسلیاں ٹوٹ گئیں، کئی کے پھیھڑے تک پھٹ گئے۔ یہ واقعات پانچ جولائی 2024 کے حوالے سے رپورٹ کیے گئے ہیں۔ جب قیدیوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ان پر تشدد کیا جاتا رہا اور ان کے ہاتھوں اور پاؤں کی ہڈیاں توڑ دی گئیں۔
اس سلسلے میں فلسطینی قیدیوں کی جیلوں میں ہلاکتوں اور عملی صورتحال کی گواہی کے علاوہ اب جب جنگ بندی کے دوران فلسطینی اسیران کی رہائی کی جارہی ہے تو غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کے مقابلے میں رہائی پانے والے فلسطینیوں کی حالت انتہائی خراب ہے جس سے ان کے ساتھ جیلوں میں روا رکھے گئے سلوک کا اندازہ ہو رہا ہے ۔
اس صورت حال میں اسیران کے تبادلے کے دوران انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی رائے عامہ کے نزدیک اسرائیل کا چہرہ مزید بگڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مقدمہ آخری مرحلے میں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے ہی واقعات کے باعث اسرائیلی فوجی عدالت ایک فوجی کو سات ماہ کی علامتی سزا دے چکی ہے۔