شام کا بدلتا ہوا منظر : امریکہ سے آنے والے یہودیوں نے عبادات کی ادائیگی کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دہائیوں بعد مذہبی عبادت گاہ میں یہودیوں کا گروپ عبادت کر رہا ہے۔ یہ شامی دارالحکومت دمشق میں ہو رہا ہے۔ یہ پیش رفت بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور 'ھیتہ التحریر الشام' کے حکومت کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

پچھلے چند ہفتوں میں اسرائیل نے عرب دنیا میں بالعموم اور شام میں بالخصوص یہودیوں کی واپسی کے لیے اپنے انداز سے کام شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی رپورٹ بھی تیار کرائی گئی ہے جس میں ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہودی عرب دنیا کے قدیمی باشندوں میں سے ہیں لیکن انہیں کچھ عرصہ پہلے یہاں سے جلا وطن ہونا پڑا تھا۔

اہم بات ہے کہ یہودیوں کی براستہ شام عرب دنیا میں واپسی کی یہ کوشش ان حالات میں کی جا رہی ہے جب امریکی صدر نے غزہ سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو جبری طور پر بےدخل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس منصوبے کی اسرائیل غیر معمولی طور پر تائید کر رہا ہے۔

اب کہا جا رہا ہے کہ شام سے منتقل ہونے والے یہودی جو امریکہ میں آباد ہو گئے تھے ان میں سے ایک پہلا گروپ واپس دمشق پہنچا ہے۔ جن میں ایک نام ربی جوزف حمرا اور اس کے بیٹے ہینری کا ہے۔

جوزف نے دمشق میں گفتگو کرتے ہوئے کہا 'جو بھی ہمارے ساتھ یہاں سے گیا تھا وہ سب مر چکے ہیں۔ اب جب ہم یہاں واپس آئے ہیں تو ہم یہاں جیل میں نہیں ہیں ، ہم آزاد ہیں اور ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ باہر کیا ہے۔'

جوزف کا کہنا ہے کہ وہ پچھلی رجیم کے زمانے میں یہاں سے امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔

امریکہ سے شام پہنچنے والے ربی نے نائب وزیر خارجہ شام سے ملاقات کی ہے اور دوسرے حکام سے بھی ملاقات کی تیاری ہے۔ وہ اس امر سے پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ نئی حکومت شام کی تمام کمیونیٹیز کو ملک کے مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دے گی۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں اسرائیل کی غزہ جنگ کے دوران مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مخاصمت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور امریکہ و یورپی ملکوں کے بقول یہود دشمنی کے واقعات بڑھے ہیں۔ جبکہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں اسلام دشمنی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

48 سالہ ہنری حمرا کا کہنا ہے کہ شامی وزارت خارجہ نے یہودیوں کے شام میں ورثے کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں حکومت مدد کرے اور ہمیں شامی شہریوں سے تحفظ دے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے بچپنے کو واپس دیکھ سکوں اور اس پرانی عبادت گاہ کو دیکھ سکوں جسے میں بچپن میں دیکھا کرتا تھا۔

واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی 50000 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔ جن میں بڑی تعداد فلسطینی بچوں کی ہے۔ تاہم شام میں منظر بدل رہا ہے۔ شام میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں سے آگے تک نئی جگہوں پر قبضہ کیا ہے۔ وہیں یہودیوں کی اپنی آبائی علاقے میں واپسی کے نام پر یہودیوں کی آمد شروع ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں